Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ تعلیم میں آگے بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ اعلی تعلیم کی آخری منزل پر پہنچ گئے۔ اس طرح ان لوگوں کی زندگیاں یہ سبق دے رہی ہیں کہ محرومی میں بھی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہوتا ہے۔ مگر ان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو امت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے اس حقیقت کو امت کے وسیع تر مسائل میں بھی منطبق کرنے کا شعور رکھتے ہوں ۔ ڈائننگ ہال میں جولڑکیاں اور لڑکیاں کام کر رہی تھیں ان میں ایک لڑکا بہت مستعد اور فعال نظر آتا تھا۔ ایک روز میں نے اس کا نام پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ عیسائی ہے۔ دوسری قوموں کا یہ حال ہے کہ اگر ان کا کوئی فرد کہیں اقلیت میں ہو تو وہ زیادہ چوکس رہتا ہے اور زیادہ محنت کرتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اپنی ’’کمی‘‘ کی تلافی زیادہ محنت ہی کے ذریعہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہندوستان میں ان کا اقلیت میں ہونا ان کو صرف ایک سبق دے رہا ہے۔ لا تمنا ہی طور پر احتجاج اور شکایت میں مبتلا رہنا۔ مجھے کئی بار یہ تجربہ ہوا کہ جب میں گفتگو میں یا تقریر میں کہتا ہوں کہ ’’ میرا خیال یہ ہے‘‘ تو اردو کے ماحول میں اس کو انا کے اظہار کے معنی میں لے لیا جاتا ہے۔ مگر انگریزی زبان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ چنانچہ یہاں ہر آدمی جب کوئی رائے پیش کرتا ہے تو وہ کہتا ہے : To my mind . . . It seems to me that . . . اس طرح کے الفاظ انگریزی میں بات کو گھٹا کر کہنے کے ہم معنی ہیں اور اردو میں بڑھا کر کہنے کے۔ ایک جگہ وہ تواضع کا مفہوم رکھتے ہیں اور دوسری جگہ انانیت کا۔ کیسا عجیب فرق ہے ایک زبان میں اور دوسری زبان میں۔ ۲۷ جولائی کو جمعہ کا دن تھا۔ ذمہ داروں نے پروگرام بنایا کہ میں کوالالمپور کی جامع مسجد میں نماز پڑھاؤں اور خطبہ دوں۔ میں نے اس سے انکار کیا۔ البتہ اسی مسجد میں جمعہ پڑھا جو یہاں کی قدیم ترین مسجد ہے۔ ہم مسجد میں پہنچے تو گیٹ پر ایک بورڈ پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم عربی میں تھا اور نیچے انگریزی عبارت دکھائی دیتی تھی۔ میں قریب گیا تو معلوم ہوا کہ انگریزی رسم الخط میں ملائی زبان ہے۔ ۱۹۵۰ کے سرکاری فیصلہ کے مطابق ملائی زبان کو رومن رسم الخط میں لکھا جاتا ہے۔ مثلاً عید الفطر کو یہ لوگ اپنی زبان میں (Aidilfitri) لکھتے ہیں۔ خوش آمدید کو (Selamat Datang) سرکاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page