Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

کام اور دوسرا زیادہ تر کام رومن رسم الخط میں انجام دیا جاتا ہے۔ تاہم ایک طبقہ ابھی تک ایسا موجود ہے جو قدیم رسم الخط کو استعمال کرتا ہے جو عربی سے ملتا جلتا ہے۔ اب دوبارہ تحریک چل رہی ہے کہ رومن رسم الخط کو ترک کر کے سابق رسم الخط کو از سر نو اختیار کر لیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ وہ کسی معاملہ میں ایسا فیصلہ نہیں کر پاتے جو ان کے درمیان نسل در نسل چلے۔ ایک حکمراں ہنگامہ خیز عمل سے گزر کر ایک دستور بناتا ہے۔ اور اگلا حکمراں اس کو بدل دیتا ہے۔ ایک قائد مسلمانوں کو ایک رخ پر دوڑاتا ہے۔ اگلا قائد آکر دوبارہ دوسرے رخ پر دوڑانا شروع کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمان ابھی تک درمیانی راستہ میں ہیں۔ وہ منزل تک نہیں پہنچ سکے۔ جامع مسجد کا طرز تعمیر ہندوستان کی مساجد سے بالکل مختلف تھا۔ مسجد نہایت صاف ستھری دکھائی دی۔ اس مسجد کی ایک بات مجھے بہت پسند آئی۔ ہندوستان کی اکثر مسجدوں میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ جمعہ کے دن لوگ صفوں میں ہیں۔ کوئی سنت پڑھ رہا ہے۔ کوئی ذکر کر رہا ہے اور دو آدمی ان کے درمیان کپڑا پھیلائے ہوئے ادھر سے ادھر سے گزر رہے ہیں اور مسجد کا چندہ مانگ رہے ہیں۔ یہ منظر نمازیوں کے لئے بہت ناخوشگوار ہوتا ہے اور نماز کا احترام بھی اس کی وجہ سے مجروح ہوتا ہے عرب ملکوں میں چونکہ حکومت کا محکمہ اوقات مساجد کی تمام ضرورتوں کا کفیل ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں اس کا مسئلہ نہیں۔ مسجد جامع کو الالمپور میں مجھے اس کا بہترین حل نظر آیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ اینچی کے بقدر ایک چھوٹا سا خوہ بصورت بکس ہے۔ جس میں اندرونی تالا بند ہے۔ اور اوپر ایک سوراخ بنا ہوا ہے۔ اس بکس کے نیچے جدید قسم کا عمدہ پہیہ لگا ہوا ہے۔ یہ بکس صفوں کے درمیان ایک کے بعد ایک گھومتا رہتا ہے۔ تقریباً ہر آدمی اس میں کچھ نہ کچھ ڈالتا ہے۔ ایک آدمی جب اپنی رقم ڈال چکتا ہے تو وہ بکس کو آگے دھکیل دیتا ہے۔ دوسرا آدمی اپنی رقم ڈال کر دوبارہ بکس کو آگے کر دیتا ہے۔ اس طرح بکس ایک کے بعد ایک تمام صفوں کے سامنے سے گزرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ پوری مسجد کا چکر لگا لیتا ہے۔ انٹرنیشنل ہاؤس کی چودہ منزلہ بلڈنگ میں تیسری منزل پر ایک بڑے کمرہ میں نماز باجماعت کا انتظام تھا۔ فجر کے وقت میں وہاں پہنچا تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اذان دے رہے تھے۔ ان کا دایاں ہاتھ کان پر تھا اور بایاں ہاتھ لٹک رہا تھا۔ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح پر انھوں نے دائیں یا بائیں رخ نہیں کیا۔ بلکہ سامنے کی طرف رخ کئے ہوئے پوری اذان دیتے رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page