Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

اگلے دن ایک اور صاحب نے اذان دی اور وہ اپنا دونوں ہاتھ لٹکاتے رہے۔ انھوں نے ایک حی علی الصلوٰۃ پر دائیں طرف چہرہ کیا اور دوسری حی علی الصلوٰۃ پر بائیں طرف۔ اسی طرح حی علی الفلاح پر بھی۔ اسی طرح نماز کی ادائیگی میں بھی مختلف قسم کے فرق نظر آتے ہیں۔ یہ فقہی مسالک کا فرق ہے۔ ہندوستان میں ان معاملات میں اس قدر شدت ہے کہ مذکورہ بالا طرز پر کسی کو اذان دیتے دیکھیں تو اس کو مسجد سے نکال دیں۔ مگر یہاں ان معاملات میں کوئی شدت نہیں۔ میں نے اپنی کتاب (تجدید دین) میں اس کی حمایت کی تھی کہ فقہی مسائل میں شدت کے بجائے توسع کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہاں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ لوگوں نے عجیب عجیب خود ساختہ مطلب نکال کر اس کتاب کو بدنام کیا۔ حالاں کہ یہی لوگ جب باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اس قسم کے فرق کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ وہاں ماحول کے دبائو سے ہر آدمی وہی بات مان لیتا ہے جس کو دلیل کی بنیاد پر وہ اپنے ملک میں ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ڈاکٹر مہدی گلشنی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایران سے آئے تھے ان سے کافی باتیں ہوئیں۔ وہ تہران یونیورسٹی کے شعبہ سائنس میں پروفیسر ہیں۔ اور تعلیم کے تحت ساڑھے دس برس امریکہ میں رہ چکے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ امریکہ میں آپ نے جو کچھ دیکھا اس میں کیا اچھی چیز تھی اور کیا بری چیز تھی۔ اچھی چیز ان کے الفاظ میں یہ تھی کہ وہ لوگ ہمیشہ بنیادی چیزوں (basic things) پر متوجہ رہتے ہیں اور معمولی چیزوں (minor things) کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں۔ مسلم قوموں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ زیادہ تر معمولی چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اور بڑی بڑی چیزیں اکثر ان کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتیں۔ مغرب کی بری چیز کے سلسلے میں انھوں نے میٹرلپزم (مادیت) کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی سوچ اور ان کی دوڑ دھوپ کا مرکز و محور صرف مادی چیزیں ہوتی ہیں۔ اس سے اوپر اٹھ کر وہ سوچ نہیں پاتے۔ ڈاکٹر مہدی گلشنی نے ایران کے حالات کے ذیل میں بتایا کہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ۱۹۷۸ء میں ایک امریکی مجلہ (ورلڈ سیگ زین) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: With an army of 700,00 nobody can overthrow me. یعنی میرے پاس سات لاکھ فوج ہے۔ کوئی مجھے ایران کے تخت سے بے دخل نہیں کر سکتا۔ اس انٹرویو کے ایک سال بعد فروری ۱۹۷۹ء میں شاہ ایران کو نہایت بے دردی کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page