سفر مدینہ
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
تخت سے بے دخل کر دیا گیا۔ جب کہ فوج آخر وقت تک شاہ کی وفادار بنی ہوئی تھی۔ ایک گفتگو کے موقع پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ جدید معلومات کی روشنی میں قرآن کی نئی تفسیر کرنا جائز ہے یا نہیں۔ کیوں کہ صحابہ و تابعین کو سارے قرآن کا علم تھا۔ اس لئے وہ جو کچھ تفسیر کر گئے ہیں وہی کافی ہونا چاہئے۔ ایک سعودی عالم نے اس جواب میں کہا کہ جدید تفسیر کے لئے خود صحابی کا اجازت نامہ حاصل ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس جو حبر الامت کہے جاتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ؛ القرآن یفسرہ الزمان۔ یعنی زمانہ قرآن کی مزید تفسیر کرتا رہے گا۔ گویا قرآن کی تفسیر ختم نہیں ہو گئی۔ بلکہ علم کی ترقی کے ساتھ برابر جاری رہے گی۔ ایک مصری ڈیلی گیٹ نے اپنا ذاتی مشاہدہ بتایا کہ جمال عبدالناصر کو جب مصر میں اقتدار ملا تو شروع میں لوگوں نے ان کی زبان سے خوب اسلامی باتیں سنیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک تقریر میں جمال عبدالناصر کی زبان سے یہ الفاظ سنے ہیں؛ ایہا الناس لا تكونوا بناء الدنيا وتكونوا ابناء الآخرة یہ واقعہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کوئی سیاست داں اگر اسلامی باتیں کرے تو اس کو بہت زیادہ سنجیدہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ کیوں کہ اس کو اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے عوام کو ساتھ لینا ہوتا ہے۔ اور عوام کو ساتھ لینے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے دینی باتیں کی جائیں۔ یہ ظاہر کیا جائے کہ اس کی حکومت اسلام لانا چاہتی ہے گو یا مسلم ملک کے ڈکٹیٹر ٹھیک اسی طرح اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں جس طرح غیر مسلم ملک کے ڈکٹیٹر اسی مقصد کے لئے سوشلزم اور قومی اتحاد کے نعرے استعمال کرتے ہیں۔ کوالالمپور میں روزانہ شام کو کسی نہ کسی منسٹری کی طرف سے کسی عالی شان ہوٹل میں کھانا ہوتا تھا جو میرے لئے سخت وحشت ناک تھا۔ میرے نزدیک اس قسم کی دعوتیں صرف پیسہ اور وقت کا ضیاع ہیں۔ تاہم نظم کی پابندی میں ان میں شرکت کرنی پڑتی تھی ۔ البتہ اس میں ۳۰ جولائی کے کھانے کا استغفار تھا۔ ۳۰ جولائی کی شام کا کھانا نادیر ا عظم کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ یہ سادہ قسم کی رہائش گاہ ابھی حال میں بنائی گئی ہے۔ تمام لوگ مغرب سے پہلے وہاں پہنچا دئے گئے۔ ایک بڑے ہال کو مکمل طور پر خالی کر کے مسجد کی مانند بنا دیا گیا تھا۔ ایک عرب ڈاکٹر احمد ذکی) نے امامت کی ۔ تقریباً ۷۰

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader