Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

ریاض کا سفر

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

ریاض کا سفر (از ڈاکٹر ظفر الاسلام خان) سعودی عرب کے دار السلطنت الرياض میں اکتوبر ۱۹۷۹ء کے آخری ہفتہ میں اسلامی قانون کے بارے میں ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس (مؤتمر الفقه الإسلامی) منعقد ہوئی جس میں ساری دنیا سے تقریباً ۱۵۰ علماء ومفکرین اسلام نے شرکت کی۔ آٹھ دن کی فکر انگیز ملاقاتوں اور مناقشات کے بعد اسلامی فقہ کا نفرنس ۳۱ اکتوبر کو ختم ہوئی۔ کانفرنس کی اہم قراردادیں حسب ذیل ہیں: اسلامی ملکوں میں شریعتِ اسلامیہ کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ۔ اسلامی فقہ اکیڈمی کا قیام جو کہ اسلامی قوانین کی جدید تدوین کے علاوہ عصر حاضر کے پیدا کردہ مسائل کا حل تلاش کرے گی اور اس میں تمام عالم اسلامی کے ممتاز علماء و مفکرین شامل ہوں گے۔ یہ اکیڈمی کانفرنس کی دعوت دینے والی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ (الرياض) میں قائم کی جائے گی۔ مسلم ممالک میں سود کا فوری طور سے خاتمہ ، اور بینک کاری اور دوسرے اقتصادی امور کو اسلامی قانون کے مطابق ڈھالنا۔ جامعۃ الامام محمد بن سعود میں اقتصادی ریسیرچ کا مرکز قائم کرنا۔ مناہج تعلیم میں اسلامی علوم و ثقافت کو کا حقہ داخل کرنا۔ ایک مستقل مرکز کا قیام جو اسلام کے خلاف استشراقی، الحادی اور صلیبی فکری حملوں پر نظر رکھے اور ان کا توڑ کرے۔ اسلامی انسائیکلوپیڈیا تیار کرنا۔ عالمی صحافتی ادارہ کا قیام جوکہ پرچوں اور روزناموں کے ذریعہ اسلامی قضایا کو ابھارے اور عمدہ اسلامی کتابوں کا ترجمہ کرے۔ اسلامی تعلیمی ریسیرچ کے لئے جامعۃ الامام محمد بن سعود اور دوسری اسلامی یونیورسٹیوں میں مستقل مراکز کا قیام جو کہ عمدہ کتابیں تیار کرے تاکہ اسلامی مدارس میں تدریسی کتابوں کا خلا پورا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page