مراکو کا سفر
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے سلسلہ میں مراکو کا سفر ہوا۔ جولائی ۱۹۸۴ میں ملیشیا جانا ہوا تھا۔ اب نومبر ۱۹۸۴ میں مراکو جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گویا اس مسلم دنیا کا ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف سفر تھا۔ جو ملیشیا اور انڈونیشیا سے لے کر مراکو تک پھیلی ہوئی ہے۔ مراکو مغرب کی سمت میں افریقہ کا آخری ملک ہے جو اسپین کے قریب واقع ہے۔ چنانچہ اس ملک کا دوسرا نام مغرب ہے۔ مراکو کا رقبہ دو لاکھ ۷۵ ہزار مربع میل ہے۔ اور آبادی ۲۰ ملین سے کچھ زیادہ ہے جس میں بیشتر تعداد مسلمانوں کی ہے۔ اس کی راجدھانی رباط ہے اور شاہ حسن ثانی اس کے موجودہ حکمراں ہیں۔ مراکو کو بنو امیہ کے دور میں عقبہ بن نافع نے فتح کیا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقبہ بن نافع نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا۔ جب وہ خشکی کو فتح کرتے ہوئے مراکو کی آخری سرحد پر پہنچے جس کے آگے اٹلانٹک سمندر موجیں مار رہا تھا تو انھوں نے اسلامی جوش کے تحت اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا اور پانی کے اندر کھڑے ہو کر کہا: واللہ لو علمت ان وراء هذا البحر بلد لخفتنه خدا کی قسم اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر کو عبور کر کے وہاں پہنچتا یہاں تک کہ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ دورِ اول کے مسلمان جس مقصد کے لئے سرشار ہو کر اٹھے تھے وہ لوگوں کو خدا سے واحد کا عبادت گزار بنانا ناتھا۔ نہ کہ ملکی فتوحات حاصل کرنا۔ مگر بعد کی نسلیں اس راز کو بھول گئیں۔ انھوں نے فتوحات اور سیاسی کارناموں ہی کو سب کچھ سمجھ لیا۔ اسی وقت سے مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیا۔ ۲۵ نومبر کو جب میں نے یہاں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں کھڑے ہو کر اٹلانٹک کی لہروں کو مارتے ہوئے دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے یہ موجیں آج بھی عقبہ بن نافع کے اس تاریخی قول کی امانت لئے ہوئے ہیں اور اس کو توحید کا نام لینے والوں تک پہنچا دینا چاہتی ہیں۔ مراکو کی فتح کے بعد طارق بن زیاد کو یہاں کا حاکم مقرر کیا گیا۔ یہ وہی طارق بن زیاد ہے جس کے نام سے جبل الطارق (جبرالٹر) موسوم ہے۔ اس نے آبنائے جبرالٹر کے مقام پر سمندر کو عبور کیا اور اندلس میں داخل ہو کر اس کا بڑا حصہ فتح کر ڈالا۔ اس کے بعد اسپین کی تقریب آدهی آبادی مسلمان ہوگئی۔ مگر بعد کو جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader