مراکو کا سفر
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے نتیجہ میں مسیحی دوبارہ اسپین میں غالب آگئے تو انہوں نے چاہا کہ اسپین سے اسلامی تاریخ کو بالکل مٹا دیں۔ انہوں نے زبر دست مظالم کئے چنانچہ مجبور ہو کر یہاں کے مسلمان یا تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے یا دوبارہ مسیحی بن گئے۔ مراکو میں فرانسیسی ۱۹۱۲ء میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ۱۹۱۲ء تک مراکو پر باقاعدہ قبضہ کر لیا۔ اسی دوران اسپینی بھی مراکو کے اس حصہ میں داخل ہو گئے جو ان کے قریب سمندر کی دوسری طرف تھا۔ تاہم ۱۹۵۶ء میں فرانس اور اسپین دونوں سلطان کے حق میں اپنے اقتدار سے دست بردار ہو گئے ۔ اب مراکو مکمل طور پر ایک آزاد ملک ہے۔ راقم الحروف نے مراکش (مراکو) کا نام سب سے پہلے بچپن میں شبلی نعمانی کی نظموں کے ذریعہ سنا تھا۔ پہلی جنگ عظیم میں مراکش پر مغربی قوموں کا قبضہ ہو گیا تو شبلی نعمانی نے ایک نظم میں کہا تھا: مراکش جا چکا فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ جتنا ہے یہ ٹڑکی کا مریض سخت جاں کب تک مراکش (مراکو) اور فارس (ایران) اگر چہ آج مغربی اقوام کے سیاسی قبضہ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے قبضہ سے نکلنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ مراکش (بتشدید المراء) یہاں کا ایک قدیم شہر ہے۔ یورپی لوگ اکثر اسی نام کی نسبت سے یہاں کی حکومت کو حکومت مراکش کہتے تھے۔ اس طرح مراکش پورے ملک کے لئے بھی بولا جانے لگا۔ یہی لفظ بعد کو خود یورپیوں کے اثر سے بگڑ کر مراکو (Morocco) بن گیا۔ مراکو در اصل مراکش کی بدلی ہوئی مغربی شکل ہے۔ مراکو ہی وہ ملک ہے جہاں سے گزر کر مسلمان یورپ میں داخل ہوئے تھے۔ ۲۴ نومبر ۱۹۴۸ء کو صبح سویرے ایر انڈیا (AIR) کے ذریعہ دہلی سے روم کے لئے روانگی ہوئی۔ ہوائی جہاز کی ایجاد نے موجودہ زمانہ میں دور دراز مقامات کے سفر کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ مگر خود ہوائی کمپنی کے لئے یہ صنعت براہ راست نفع بخش نہیں۔ بالواسطہ نفع کی بنیاد پر آج تقریباً تمام ملکوں نے اپنی ہوائی کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں۔ مگر اکثر ہوائی کمپنیاں خسارہ پر چل رہی ہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ ہوائی مسافروں کی کمی ہے۔ چنانچہ اکثر جہاز اپنی وسعت سے کم مسافر لے کر چلتے ہیں۔ اس سے استثنی صرف وہ ہوائی جہاز ہیں جو خلیج کے مسافروں کو لے کر چلتے ہیں۔ کیوں کہ اس علاقہ میں پچھلے برسوں میں سفر بہت بڑھ گیا ہے۔ جہاز کے اندر مختلف اخبار اور رسائل پڑھنے کو ملے۔ ٹائم میگزین (۱۹ نومبر ۱۹۴۸) کو الکشن اسپیشل کے طور پر چھاپا گیا ہے۔ اس میں بہت سی دل چسپ باتیں تھیں صفحہ ۴۹ پر امریکی لٹریری مانیڈیل (Mondale) کا ایک قول درج تھا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader