مراکو کا سفر
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
We're dealing with real problems, and we want real ans- wers. This is not Hollywood. ہم حقیقی مسائل سے نمٹ رہے ہیں اور ہم حقیقی جوابات چاہتے ہیں۔ یہ ہالی وڈ نہیں ہے۔ ہالی وڈ امریکہ کی فلمی دنیا کا نام ہے۔ فلم کی دنیا میں طرح طرح کے کردار اک کئے جاتے ہیں مگر وہ سب کے سب غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ امریکہ کے لوگ ہر قسم کی طاقت رکھنے کے باوجود یہ جانتے ہیں کہ فلمی دنیا والی کارکردگی دکھانے سے حقیقی دنیا میں نتائج نہیں نکل سکتے۔ مگر اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اس کے باوجود وہ فلمی دنیا جیسے ڈرامے دکھا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ حقیقی زندگی میں کامیابی کا ہمالیہ پہاڑ بنالیں گے۔ ان دنوں روس کے بچوں کے تھیٹر کے ڈائرکٹر پنچیکوف (Gennady M. Pechnikov) ہندوستان آئے ہوئے تھے۔ پیٹریاٹ (۲۲ نومبر ۱۹۸۴) میں ان کا ایک بیان شائع ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے رامائن اور مہا بھارت پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس سلسلہ میں یہ جملہ بھی تھا: Ramayana is much more than a religious book. It reflects man's eternal quest for truth. رامائن کی حیثیت مذہبی کتاب سے بہت زیادہ ہے۔ وہ خارجی دنیا میں انسان کی تلاش حق کی عکاسی کرتی ہے۔ پنچیکوف نے یہ بات اس لئے کہی کہ وہ اپنے اشتراکی ذہن کی وجہ سے مذہب کو صرف ایک مفروضہ روایت سمجھتے ہیں۔ اگر وہ مذہب کی حقیقت کو جانتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ مذہب اور سچائی دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ انسان کی تلاش حق کے صحیح جواب ہی کا دوسرا نام مذہب ہے۔ دہلی سے ٹھیک ساڑھے چھ بجے صبح کوروانگی ہوئی۔ نو گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد ہمارا جہاز روم میں اترا۔ دہلی سے روم کا فاصلہ سات ہزار کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ میں اگلے جہاز کے انتظار میں روم کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر تھا۔ میرے سامنے ہوائی اڈہ کا وسیع میدان پھیلا ہوا تھا۔ ایک کے بعد ایک جہاز روانہ ہورہے تھے۔ ابتداً وہ کھڑے ہوتے نظر آتے پھر وہ متحرک ہو کر تیز دوڑنے لگتے۔ پھر وہ فضا میں بلند ہو کر اڑنے لگتے۔ بظاہر ہر جہاز ایک بے جان مادہ کا مجموعہ ہے مگر یہی بے جان مادہ متحرک ہو کر تیزی سے چلنے لگتا ہے۔ یہ واقعہ بھی موٹی کے عصا کے عجیب نہیں، میں نے سوچا ”وہ اندھے لوگ تھے جن کو عصا کا معجزہ دکھانے کی ضرورت پیش آئی۔ ورنہ یہاں کائنات کی ہر چیز معجزہ ہے۔ حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا متحرک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader