Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو کر زمین پر چلنے لگتا جتنا عجیب ہے اتنا ہی عجیب یہ بھی ہے کہ بے حرکت مادہ ایسی سواریوں میں تبدیل ہو جائے جو دوڑتی ہیں ، جو اڑتی ہیں۔ جو تیز رفتاری کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو بھی وہی خدا چلا رہا ہے جس نے موسیٰ کے عصا کو چلایا تھا۔ اس حقیقت کی طرف خود قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کے عصا کے بارہ میں قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ : فاذ اھی حية تسعی اور عام چیزوں کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ یخرج الحی من الميت ان دونوں آیتوں کے الفاظ الگ الگ ہیں۔ مگر دونوں آیتیں ایک ہی حقیقت کو بتا رہی ہیں۔ روزمرہ کے مشاہدہ میں مادہ کا زندہ چیز بن کر چلنے لگنا بھی اسی خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے جس کے حکم سے ایک لاٹھی سانپ بن کر چلنے لگی تھی۔ روم میں چند گھنٹے قیام کے بعد ایر مراک ( ۹۵۵ ) کے ذریعہ آگے کے لئے روانگی ہوئی، شام کو میں کیسا بلا نکا پہنچا۔ یہ مراکو کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کا کچھ حصہ پرانے وضع کا ہے اور کچھ حصہ جدید وضع پر بنایا گیا ہے۔ یہ اس ملک کا تجارتی مرکز ہے۔ بیرونی ملکوں کے لوگ کثرت سے یہاں آتے ہیں، تجارت کے لئے بھی اور سیاحت کے لئے بھی۔ کیسا بلا نکا اٹلانٹک کے عین ساحل پر واقع ہے۔ اس کا قدیم عربی نام الدار البيضاء ہے۔ مغربی استعمار کے زمانہ میں وہ کیسا بلانکا (Casablanca) کے نام سے مشہور ہوا۔ دونوں لفظوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔ یعنی سفید گھر۔ الدار البیضارعربی لفظ ہے اور کیا بلانکا اسی کا ہسپینی مترادف ہے۔ کیسا بلا نکا میں میرا قیام ہوٹل سفیر ( روم ۷ ، ۱۲۰ ) میں تھا۔ یہ ہوٹل اٹلانٹک کے ساحل کے قریب ہے۔ یہاں سے اٹلانٹک کی موجیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ جب اس پر نظر پڑی تو یہ سوچ کر میری عجیب کیفیت ہوئی کہ یہی وہ سمندر ہے جس کے دوسری طرف کھڑے ہو کر طارق بن زیاد نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا : البحر وراء کم والعدو امامكم (سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے آگے ہے) پھر وہیں سے گزر کر طارق بن زیاد اسپین میں داخل ہوا اور یورپ میں اسلام کی تاریخ کا آغاز کیا۔ اگرچہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے یہ پیش قدمی زیادہ دور تک نہیں پہنچ سکی۔ تا ہم یہ تاریخ مسلمانوں کو بہت بڑا سبق دے رہی ہے۔ یہ کہ انہیں کیا کرنا چاہئے اور یہ بھی کہ انہیں کیا نہیں کرنا چاہئے تاکہ ان کی قوتیں اسباب کی اس دنیا میں بے نتیجہ ہو کر نہ رہ جائیں۔ ۲۵ نومبر کو میں ہوٹل کے باہر کی سڑک پر ٹہل رہا تھا کہ پولیس کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے عربی میں بات شروع کی۔ مجھے اس کے لہجہ کو سمجھنے میں دقت پیش آئی ۔ میں نے اس سے اپنا کلام دہرانے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page