Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

حال میں دیکھ کر پوچھا کہ آپ کیوں اس طرح چپ چاپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں پھر بھی چپ رہا۔ ان کے بار بار سوال پر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کا حال دیکھ کر اکثر میرا دل یہ کہنے لگتا ہے کہ : الناس يضحكون لكي لا ييسر هو ا بعد ذلك ابد ا ۔ الناس يضحكون لكي لا تيسر لهم الضحك بعد ذالك ابد اً۔ ایک موقع پر افریقہ میں قحط اور بھوک کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک صاحب جو آجکل کی زبان میں چین اسموکر“ تھے۔ وہ ایک کے بعد ایک قیمتی سگریٹ سلگا رہے تھے۔ انھوں نے دھواں اڑاتے ہوئے کہا کہ آج کا اصل مسئلہ بھوک نہیں۔ آج کا اصل مسئلہ اسراف ہے۔ عرب دنیا میں آج جس طرح مسرفانہ طور پر خدا کی دولت خرچ کی جا رہی ہے۔ اگر اس کو صحیح ڈھنگ پر خرچ کیا جائے تو ساری دنیا میں بھوک کا مسئلہ حل ہو جاتے۔ میں خاموش بیٹھا ہو لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ جو مطمئن چہروں کے ساتھ بھوک کے مسئلہ پر بے تکاں بول رہے تھے۔ میرے دل نے کہا: "ہر آدمی دوسرے کی کمیوں سے آخری حد تک باخبر ہے اور اپنی کمیوں سے آخری حد تک بے خبر، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام موجودہ زمانہ میں ایک فیشن بن گیا ہے۔ یہ بھی شاید ایک عالمی ظاہرہ کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ٹیکنیکل ترقیوں سے پیدا شدہ سنگین مسائل نے بہت سے لوگوں میں یہ رد عمل پیدا کیا ہے کہ وہ ”ماضی کی طرف واپسی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ انہی میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو مذہب کی طرف واپسی کی باتیں کرتا ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر مذہب میں کثرت سے پیدا ہو گئے ہیں اسی طرح مسلمانوں میں بھی ایک گروہ پیدا ہو گیا ہے جو اسلام کی طرف واپسی کی باتیں کرنے لگاہے ۔ مگر یہ سب کچھ پلوشن ہے۔ ان میں سے کوئی حقیقی معنوں میں سنجیدہ نہیں ۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ لوگ جو واپسی“ کی باتیں کرتے ہیں ان کا تعلق صرف دوسروں کی واپسی سے ہوتا ہے ۔ خود اپنی واپسی سے کسی کو کوئی دل چسپی نہیں۔ فاس (Fes) یہاں کا سب سے مشہور تار، یعنی شہر ہے۔ اس کو ادریس بن عبداللہ نے ۱۰۲ھ میں آباد کیا تھا۔ اس وقت یہاں اسلام عمومی طور پر نہیں پھیلا تھا۔ ادریس بن عبد اللہ جو سیاسی دارو گیر ہے بھاگ کر یہاں آئے تھے ۔ انھوں نے اپنی دعوتی کوششوں سے تقریباً پورے ملک کو مسلمان بنا ڈالا۔ ۳۰ نومبر ۱۹۸۴ کو فاس کا سفر ہوا۔ صبح کے وقت کانفرنس کے شر کا ر ، خصوصی طیارہ کے ذریعہ کیسابلانکا سے فاس لے جائے گئے۔ اور اسی دن شام کو کیسابلانکا واپس آگئے ۔ فاس کا شہر کیسابلانکا سے بذریعہ ہوائی جہاز پون گھنٹہ کی مسافت پر ہے ۔ فاس قدیم زمانہ میں علم کا بہت بڑا مرکز تھا۔ یہاں دور درور سے طلبہ آتے تھے۔ مشہور ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page