Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

میں عجیب صورت پیش آئی۔ میرا رزرویشن روم سے کنفرم نہیں تھا۔ اور آج اتفاق سے گورنمنٹ آف انڈیا کے افسروں کی ایک جماعت اسی جہاز سے سفر کر رہی تھی، اس لئے بظاہر ہر سیٹ حاصل کرنا مشکل تھا۔ مگر مسٹر مارشیٹی دوبارہ مل گئے انھوں نے مجھ کو لاؤنج میں بٹھا دیا اور میرا ٹکٹ لے کر ایر انڈیا کے دفتر میں گئے اور رزرویشن کنفرم کرا کر لے آئے۔ میری واپسی کی تاریخ کی دلی خبر نہیں ہو سکتی تھی۔ ان سے میں نے ذکر کیا تو فوراً انھوں نے میرا ٹیلیفون نمبر لیا اور کہا کہ ابھی میں دلی کو ٹیلكس بھیج دیتا ہوں کہ آپ کے گھر پر اطلاع دے دی جائے کہ آپ اتوار کی صبح کو ایر انڈیا کی فلائٹ ۱۳۱ سے دلی پہنچ رہے ہیں۔ مسٹر شیٹی نے جس اخلاق اور ذمہ داری کا ثبوت دیا وہ اس قدر معیاری تھا کہ مجھے تعجب ہوا کہ خود غرضی اور سطحیات کی اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں۔ موصوف کے نام الرساله (انگریزی) اعزازی طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔ یکم دسمبر ۱۹۸۳ کو کیسا بلانکا سے واپسی کے لئے روانہ ہوا۔ الیتالیا (۸۲۵) پر سفر کرتے ہوئے لندن کے اخبار ڈیلی گراف (۲۹ نومبر ۱۹۸۳) میں یہ خبر پڑھی کہ آکسفورڈ کے ۳۳ سالہ جان لیمبرٹ (John Lambert) نے اپنی تین لڑکیوں کو قتل کر دیا۔ اس نے اپنی بیوی کے نام آخری خط میں لکھا تھا کہ تم نے مجھ کو ایک محبت کرنے والے وفادار شوہر سے بدل کر قاتل بنا ڈالا۔ میں ہر چیز کا الزام صرف تم کو دیتا ہوں قاتل پکڑا گیا۔ اس کے بعد اس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا: It’s all to do with my wife going with other men.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page