Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

مراکو کا سفر

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

روداد سفر لاہور میں قرآن اکیڈمی زیر صدارت ڈاکٹر اسرار احمد صاحب) کی طرف سے ہر سال بڑے پیمانے پر پر سر آنی سمینار ہوتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں مجھے اس کا دعوت نامہ ملا مگر بعض وجوہ سے میں سفر نہ کر سکا۔ اس سال پھر دعوت نامہ آیا تو میں نے طے کر لیا کہ اس بار انشاء اللہ اس میں شرکت کروں گا۔ اس کے مطابق مارچ ۱۹۸۵ کا آخری ہفتہ لاہور میں گزرا۔ پہلا سفر پہلی بار میں ۱۹۴۵ میں لاہور گیا تھا۔ اس وقت میری عمر تقریباً ۲۰ سال تھی۔ یہ میری زندگی کے اس دور کی بات ہے جب کہ میں "تلاشِ حق" کے کٹھن مرحلے سے گزر رہا تھا۔ میں اپنے ماحول میں ایک سیدھے سادے نوجوان کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ میرے چچازاد بھائی اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵- ۱۸۸۷) مجھ کو " مرزا پھوپھو" کہتے تھے۔ یہ حالات تھے کہ ۱۹۴۳ میں میرے ساتھ ایک شدید حادثہ گزرا۔ یہ گویا ایک قسم کا انفجار (explosion) تھا جس نے میری بند شخصیت کو کھول دیا۔ یہ حادثہ بظاہر ایک مادی ناکامی کا واقعہ تھا مگر عملاً وہ میرے لئے روحانی ناکامی کا واقعہ بن گیا۔ اس حادثہ نے میری سوئی ہوئی فطرت کو جگا دیا۔ اچانک میں نے جانا کہ میں نہیں جانتا۔ میں نے اپنے نہ جاننے کو دریافت کیا۔ اس حادثہ نے میری زندگی کو سکون کے دور سے نکال کر اضطراب کے دور میں داخل کر دیا۔ میری کشتی اگرچہ " سمندر" میں ٹوٹی تھی مگر شاید کسی نامعلوم قوت نے میرے اندر پیدا ہونے والے نفسیاتی ہیجان کو استعمال کر کے مجھے تلاشِ حق کے " جزیرہ" میں ڈال دیا۔ اس زمانہ میں میں نے فانی بدایونی (۱۹۳۰ - ۱۹۷۸) پر ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ مضمون لکھنؤ کے رسالہ نگار میں چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا " فانی حقیقت کی تلاش میں سرگرداں"۔ یہ مضمون فانی سے زیادہ خود مضمون نگار کی اپنی تصویر تھا۔ میں نے تلاش حق میں اپنی سرگردانی کو فانی کے آئینہ میں دیکھ لیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page