Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

تیسرا سفر

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی حمیت کے عنوان پر چلائی جاتی ہے۔ ایک تاجر اخبار میں اپنا اشتہار دیتا ہے تو اس کا عنوان ہوتا ہے ’’الحمد للہ ایک اور امتیاز‘‘ حتّیٰ کہ فلمی لوگ بھی اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ اسلام کا لیبل لگائیں۔ روزنامہ نوائے وقت (۲۶ مارچ ۱۹۸۵) میں نئی فلم ’’ایک دلہن‘‘ کا اشتہار نظر سے گزرا۔ اشتہار کا مضمون ان الفاظ سے شروع ہوتا تھا : ’’انشا اللہ ماہ اپریل میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔‘‘ لاہور کی سڑکوں پر جگہ جگہ ایسے بورڈ نظر آئے جن پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا ’’نماز قائم کرو۔‘‘ اتحاد میں برکت ہے!‘ وغیرہ۔ تاہم پاکستان کے اخبارات میں سب سے زیادہ نمایاں مقام فلم اور کھیل کو حاصل ہے۔ نوائے وقت (۲۶ مارچ) میں ترکی کی فلم اکٹریس نازاں کا انٹرویو تھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا : ’’فیشن میں ترکی پر یورپی تہذیب کا زیادہ اثر ہے۔ وہاں خواتین جدید فیشن کے ملبوسات بہت شوق سے زیب تن کرتی ہیں۔ پیرس اور لندن میں جوں ہی کوئی نیا فیشن ایجاد ہوتا ہے ترکی میں اس کی فوری طور پر کاپی کر لی جاتی ہے۔‘‘ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں بے شمار اسلامی جماعتیں اور اسلامی تنظیمیں ہیں۔ مگر غالبؔ کوئی ایک جماعت یا تنظیم ایسی نہیں ہے جس کے پروگرام میں یہاں کے غیر مسلموں تک اسلام پہنچانا شامل ہو۔ پاکستان میں ہندو اور عیسائی قابلِ لحاظ تعداد میں آباد ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے تو انھوں نے بے پناہ ہنگامے کئے ۔ مگر غیر مسلموں کو اسلام کی رحمت میں داخل کرنے کے لئے کوئی بھی قابلِ ذکر کوشش اب تک پاکستان میں وجود میں نہ آسکی۔ حالانکہ اسی ملک میں عیسائی زبردست تبلیغی کوشش میں مصروف ہیں۔ یہی حال آج ساری دنیا کے مسلمانوں کا ہے۔ وہ لوگوں کو جہنم میں ڈالنے کے لئے تو بہت بے قرار ہیں ۔ مگر لوگوں کو جنت میں پہنچانے کے لئے ان کے اندر کوئی تڑپ نہیں پائی جاتی۔ پاکستان کے نامزد وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ مذہبی آدمی ہیں۔ وہ پیر پگاڑا کے مرید ہیں۔ وہ اپنے پیر کے مکان یا دفتر میں جاتے ہیں تو بغیر جوتوں کے داخل ہوتے ہیں۔ واپسی میں وہ کبھی بھی اپنی پیٹھ کے رخ واپس آتے ۔ چنانچہ یہاں ایک مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ پیر پگاڑا پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں کس طرح شرکت کریں۔ کیونکہ اگر پیر پگاڑا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page