ریاض کا سفر
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
صدر و ر ناب هذا البحث) دوسرے لوگ جنہوں نے مقالہ کو سراہا اور سلام پہنچانے کو کہا ان میں سے کچھ نام یہ ہیں: احمد الحمانی (الجزائر کی وزارت امور دینیہ میں المجلس الاسلامی الاعلیٰ کے ڈائرکٹر) محمد صلاح الدین المستاوی (ایڈیٹر جو ہر الاسلام - تونس)، ڈاکٹر محسن عبد الحمید (پروفیسر بغداد یونیورسٹی) - مصر کے ڈاکٹر احمد شلبی ۔ انور الجندى - رجب البنا (الابرام)، ڈاکٹر عبد الصبور شاہین۔ ڈاکٹر عبد اللہ شحاتہ، ڈاکٹر علی محمد حریشہ، ڈاکٹر محمد احمد عاشور (ایڈیٹر الاعتصام) ۔ کویت کے ڈاکٹر جمال الدین عطیہ (ایڈیٹر مسلم المعاصر مدزین الدین الرکابی (ایڈیٹر المجتمع)، عبد الرحمن الولایتی (ایڈیٹر البلاغ)۔ عبد اللہ العقیل (ڈائرکٹر امور اسلامیہ وزارت اوقاف) - سعودیہ کے شیخ محمد محمود الصواف (رابطہ عالم اسلامی)، شیخ ابو بکر الجزائر اری (استاد مدینہ اسلامی یونیورسٹی)، احمد محمد جمال (عضو مجلس الشورمی)، مراکش سے عبد الرحيم بن سلامہ (صدر جمعیۃ التضامن الاسلامی)، ڈاکٹر عبد المنعم البدراوی (پروفیسر مہد الادارة الوطنی)، ترکی سے پروفیسر اسماعیل حقی اور ڈاکٹر مصطفیٰ ہیلکا۔ امریکہ سے عمر فاروق عبد اللہ (شیکاگو یونیورسٹی)۔ جامعۃ الامام محمد بن سعود اور مدینہ یونیورسٹی کے متعدد اساتذہ و طلبہ نے بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہم شیخ وحید الدین خاں کی کتابوں کے ذریعہ اپنے ملکوں میں الحادی اور کمیونسٹ نظریات کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اور ایسی ہی کتابیں موجودہ دنیا میں اسلام کو پیش کر سکتی ہیں۔ سعودی ذرائع ابلاغ (اخبارات، ریڈیو اور ٹیلیویژن) نے خصوصیت سے مقالہ کا ذکر کیا۔ اور قاہرہ کے روز نامہ الاہرام نے اپنی ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء کی اشاعت میں مقالہ کا واضح خلاصہ پیش کیا۔ انشاء اللہ آئندہ اس مقالہ کا اردو ترجمہ الرسالہ میں شائع کیا جائے گا۔ عربی زبان میں کئی جبر انداز کو شائع کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کتابچہ کی شکل میں وہ قاہرہ سے عنقریب شائع ہونے والا ہے۔ کانفرنس میں ہندوستان سے بلائے جانے والے نمائندے یہ تھے: ۱ مولا نا سید ابوالحسن علی ندوی ۲ مولا نا سید اسعد مدنی ۳ مولا نا سید الرحمٰن ندوی ۴ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader