Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

ریاض کا سفر

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر لندن میں ایک علمی ادارہ ہے جس کا نام ہے مسلم انسٹی ٹیوٹ۔ اس ادارہ کے تحت لندن میں حج کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سمینار (۴م تا ۷ اگست ۱۹۸۲) ہوا۔ اس سمینار میں شرکت کے لئے مجھے بھی دعوت دی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں لندن کا سفر ہوا۔ اگرچہ مجھے ایک مہینہ کا دیناملا تھا اور وہاں بہت سے دوستوں نیز اسلامی اداروں کی طرف سے تقاضا ہوا کہ میں زیادہ مدت تک قیام کروں۔ مگر بعض ضرورتوں کی وجہ سے مجھے ایک ہفتہ میں واپس آنا پڑا۔ اگست ۱۹۸۲ء کی پہلی تاریخ تھی۔ برٹش ایرویز کا ہوائی جہاز مجھ کو لے کر دہلی سے بارہ ہزار کلومیٹر دور لندن کی طرف جا رہا تھا۔ زمین کی اونچ نیچ سے بے نیاز ہو کر وہ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑ رہا تھا۔ میں نے سوچا ”یہ خدا کا کیسا عجیب احسان ہے کہ اس نے انسان کے قالب میں ایسی سواری دے دی جس کو رواں کرنے کے لئے دریاؤں پر پل بنانے کی ضرورت نہیں۔ جس کی راہ میں پہاڑ اور سمندر حائل نہیں ہوتے۔ آبادیوں کی نا ہمواریاں جس کا راستہ نہیں رکتیں۔ وہ زمین کا سہارا لئے بغیر ہوا کے دوش پر ادھر سے اُدھر اُڑتا ہے اور تمام سواریوں سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آدمی کو اس کی منزل پر پہنچا دیتا ہے۔ تاہم عام ذوق کے خلاف میرے لئے ہوائی جہاز کوئی پسندیدہ سواری نہیں۔ جب بھی میں ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آئرن حبیل میں بند ہو گیا ہوں۔ میری طبیعت میں آزادی پسندی بہت زیادہ ہے۔ ایسی کوئی زندگی مجھے عذاب معلوم ہوتی ہے جس میں میرے اوپر خارجی پابندیاں لگی ہوئی ہوں۔ خواہ اس پابندی کا مقام کوئی شان دار محل ہی کیوں نہ ہو۔ ہوائی جہاز کی اس ایک خصوصیت کے سوا کہ وہ تیزی سے فیصلے کرا دیتا ہے، باقی ہر چیز میرے ذوق کے خلاف ہے۔ آپ کار میں چل رہے ہوں تو اس کو کسی بھی جگہ روک کر باہر آ سکتے ہیں۔ ٹرین میں یہ نفسیاتی اطمینان ہوتا ہے کہ ضرورت ہو تو زنجیر کھینچ کر ٹرین کو روکا جا سکتا ہے۔ مگر ہوائی جہاز کے اندر داخل ہونے کے بعد بس ”زنجیر“ میں بندھ جانا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود ہی اعلان کر دے کہ منزل آگئی، اب آپ باہر نکلنے کے لئے آزاد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر خوبی جھوٹی ہے، کیونکہ ہر خوبی کے ساتھ کوئی خرابی لگی ہوئی ہے۔ یہاں کا ہوائی سفر بھی جھوٹا ہے اور یہاں کا زمینی عیش بھی جھوٹا۔ لوگ جھوٹی تسکین کے حصول کے لئے اپنی ساری طاقت ضائع کر رہے ہیں۔ اور جب زندگی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور سچی تسکین کا وقت آتا ہے تو معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page