Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

ریاض کا سفر

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا ہے کہ ان کے اندر روہ طاقت اور صلاحیت ہی نہیں کہ وہ سچی خوشی سے لطف اندوز ہو سکیں ۔ ہمارا پہلا ٹھہراؤ دبی تھا۔ یہاں ایک گھنٹہ کا موقع تھا۔ ہوائی جہاز سے اتر کر میں ادھر اُدھر گھومتا رہا۔ واحد تاثر جو دُمن نے قبول کیا وہ یہ کہ آج کی دنیا تہذیب کی دنیا ہے۔ دبی بظاہر ایک مسلم ملک ہے۔ مگر یہاں ، دوسری ہر جگہ کی طرح ، تمام چیزیں مغربی انداز میں ڈُوبی ہوئی دُکھائی دیتی ہیں ۔ تعمیر، لباس، سواری، فرنیچر، آرائش، غرض کوئی چیز ایسی نہیں جس پر مغربی چھاپ کا نشان نظر نہ آتا ہو۔ ایسی حالت میں احیارِ اسلام کی جد و جہد کا آغاز تہذیب کے میدان میں انقلاب کی جد و جہد سے ہوگا نہ کہ سیاست کے میدان میں انقلاب کی دوڑ لگانے سے ۔ سیاست زندگی کا آخری نقطہ ہے اور آخری نقطہ پر آپ اپنے سفر کا پہلا قدم نہیں رکھ سکتے۔ ہمارا دوسرا ٹھہراؤ کویت تھا۔ یہاں جہاز تقریباً ایک گھنٹہ رہا۔ دبی سے کویت کی پرواز تمام کی تمام سمندر (خلیج عرب) کے اوپر سے ہوتی ہے۔ ہمارا جہاز ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اُڑ رہا تھا۔ نیچے سمندر کی سطح پر جگہ جگہ سمندری جہاز چل رہے تھے۔ بظاہر دونوں بالکل دو قسم کی سواریاں ہیں۔ مگر حقیقتاً دونوں ایک ہیں۔ دونوں کے دونوں تیر رہے ہیں۔ ایک ہوا کی سطح پر تیر رہا ہے اور دوسرا پانی کی سطح پر۔ ہوائی جہاز میں مسافروں کی رہنمائی کے لئے جگہ جگہ اندراجات ہیں۔ یہ اندراجات انگریزی کے ساتھ عربی میں بھی نظر آئے۔ مثلاً انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے No Smoking تو عربی زبان میں اس کے ساتھ ممنوع التدخین بھی درج ہے۔ انگریزی میں (Please lock Door) درج ہے تو عربی میں الرجاقفل الباب ہے ۔ انگریزی میں Waste Disposal ہے تو عربی میں رمی الفضلات ۔ اسی طرح کویت میں مسافروں کے درمیان روزانہ اخبارات تقسیم ہوئے تو انگریزی قارئین کے ساتھ السیاسۃ الکویت کا عربی اخبار) بھی تقسیم کیا گیا ۔ یہ گویا عرب دنیا کی اس اہمیت کا اعتراف تھا جو تیل کے نتیجہ میں اسے حاصل ہوئی ہے۔ دہلی سے کویت تک جہاز کی بہت سی سیٹیں خالی تھیں۔ کویت میں کثیر تعداد میں عرب مرد اور عرب عورتیں جہاز میں سوار ہوئیں اور تمام سیٹیں بھر گئیں ۔ یہ سارے لوگ لندن جا رہے تھے۔ میرے قریب کی سیٹ پر ایک غیر مسلم تھے جو لندن کے باشندہ ہیں ۔ ان سے میں نے پوچھا ”عرب مرد اور عورتیں اتنی بڑی تعداد میں کس لئے لندن جاتے ہیں“ ان کا مختصر جواب یہ تھا : خرید و فروخت اور تفریح کے لئے۔ عرب ملکوں کو جدید دنیا میں جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ تیل کی قدرتی دولت کی وجہ سے ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page