ریاض کا سفر
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ کہ کسی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے۔ تیل کی دریافت بالکل ”جدید‘‘ دریافت نہیں ہے۔ تیل کے چشمے قدیم زمانہ میں بھی زمین کی سطح پر جگہ جگہ بہہ پڑے تھے اور انسان ابتدائی طور پر معدنی تیل سے واقف تھا۔ مگر قدیم زمانہ میں کار اور ہوائی جہاز اور دوسری مشینی چیزیں وجود میں نہ آئی تھیں جو تیل کے ایندھن سے متحرک ہوتی ہیں۔ تیل کی اہمیت اسی وقت ہے جب کہ مشینی صنعت کا دور رودود میں آچکا ہو۔ مشینی صنعت کے بغیر تیل کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں کس طرح ایک چیز کی اہمیت دوسری چیز کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ ہوائی جہاز میں مسافروں کے لئے گانے اور موسیقی کا انتظام ہوتا ہے۔ مگر اس طرح نہیں کہ لاؤڈ اسپیکر پر ریکارڈ بجا کر سب کا سکون برباد کیا جا رہا ہو۔ بلکہ یہ کام ایک خاموش انتظام کے تحت ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز کی طرف سے کان میں لگانے کا ایک خاص آلہ دیا جاتا ہے جس کو ہیڈ سیٹ (headset) کہتے ہیں۔ اس کا ایک حصہ ڈاکٹروں کے استھ اسکوپ کی طرح کان میں لگا کر دوسرا حصہ کرسی کے ہتھے میں بنے ہوئے خانہ میں جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فورا ہی گانے اور موسیقی کی آواز کان میں آنا شروع ہو جاتی ہے ۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ جو شخص سننا چاہتا ہے وہی سنتا ہے اور جو نہیں سننا چاہتا اس کے کان اس طرح اس سے محفوظ رہتے ہیں گویا یہاں گانے اور موسیقی کا کوئی وجود ہی نہیں۔ پھر یہ واقعہ ہوا کہ ایک ایر ہوسٹس کو مجھے ایک ہوائی ہدایت کی طرف متوجہ کرنا تھا جس کی، اس کے خیال کے مطابق، میں ”خلاف ورزی‘‘ کر رہا تھا۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوئی تو اس کا پہلا جملہ یہ تھا : Excuse me please یعنی یہ کہنے کے لئے مجھے معاف کیجیئے ۔ ۔ ۔ یہ دو مثالیں جن میں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید تہذیب نے کس قسم کے آداب کو دنیا میں رواج دیا ہے۔ یہ آداب دو متعین اصولوں پر قائم ہیں : اپنی ذات کی تکمیل، مگر اس طرح کہ دوسرے کی ذات کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ دہلی سے لندن کا سفر ۱۳ گھنٹے کا تھا۔ دہلی سے ہم صبح 4 بجے روانہ ہوئے تھے۔ گویا جب ہم لندن پہنچے تو ہندوستانی وقت کے لحاظ سے شام کے, بج چکے تھے۔ دہلی سے میں فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوا تھا۔ اس لحاظ سے لندن میں پہنچتے ہی مجھ پر مغرب کا وقت آجانا چاہئے تھا۔ مگر میں لندن میں پہنچا تو غروب آفتاب میں ابھی تقریباً پانچ گھنٹے باقی تھے۔ لندن کا وقت، ہندوستان کے لحاظ سے تقریباً پانچ گھنٹے پیچھے ہے۔ چنانچہ لندن پہنچ کر میں نے اطمینان کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی۔ اور پہلی اگست کو وہاں مغرب کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ دہلی والوں کی گھڑی میں رات کا ایک بج رہا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader