امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
جانتے تھے ، ان کو تذکیر القرآن ( جلد اول ) پیش کی گئی وہ بہت خوش ہوئے ۔ ایک صاحب جو اپنے سفید فام حلیہ سے کسی مغربی ملک کے باشندہ معلوم ہوتے تھے ۔ انھوں نے ملاقات کے وقت کہا : What is your tradition? اس جملہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ کی روایت کیا ہے۔ مگر اردو استعمال کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں دین اور مذہب کے بارہ میں تصور یہ ہے کہ وہ ایک معاشرتی رواج ہے ۔ اس کا ماخذ انسانی سماج ہے نہ کہ خدائی الہام ۔ اسی کے مطابق تمام اصطلاحات بنی ہیں ۔ اب مذہب کے بارے میں اس طرح کے الفاظ بولے جاتے ہیں : Islamic heritage, Islamic tradition ( اسلامی روایت ، اسلامی ورثہ ) اس طرح جدید انسان مذہب کو مان کر بھی مذہب کی نفی کر رہا ہے ۔ مذہب اسی وقت مذہب ہے جب کہ وہ ایک خدائی حکم ہو۔ مذہب کو اگر سماجی ورثہ یا معاشرتی رواج قرار دیدیا جائے تو اس کی ساری اہمیت ختم ہو جاتی ہے ۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو نیو یارک کی ایک بڑی فرم میں نیوکلیئر انجینئر ہیں۔ ان کو انگریزی الرسالہ دیا گیا ۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا کہ آپ کا الرسالہ مجھ کو پسند آیا۔ مگر یہ بتائیے کہ آپ نے لکھنے کی یہ تکنیک کہاں سیکھی ۔ میں نے پوچھا کہ کون سی ٹکنک ۔ انھوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے اور ایک ایک صفحہ کے مضامین کی ٹکنیک ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لوگ اپنی فیلڈ میں ایسا ہی کرتے ہیں ۔ ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی ڈاکومنٹ تیار کریں تو ہمیشہ کم سے کم الفاظ میں لکھیں تاکہ ہمارے اوپر کے لوگ کم سے کم وقت میں اس کو پڑھ سکیں۔ میں نے کہا کہ مجھ کو یہ ٹکنیک میرے دعوتی دردنے سکھائی۔ میں اس بات کی تڑپ رکھتا ہوں کہ آج کے انسان تک حق کا پیغام پہونچاؤں ۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ آج کا انسان اتنا مصروف ہے کہ وہ لمبا مضمون پڑھنے کے لیے تیار نہیں ۔ اس لیے میں چھوٹے چھوٹے مضامین میں اپنی بات کہنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ آج کا انسان ان کو پڑھ سکے ۔ اگر میں لمبے لمبے مضامین لکھوں تو آج کا انسان ان کو دیکھ کر رکھ دے گا اور میرا لکھنا بیکار ہوگا۔ امریکہ میں ایک طرف مادہ پرستی اپنے شباب پر ہے ۔ دوسری طرف یہاں روحانیت کے مبلغین کی بھی کمی نہیں ۔ اس سلسلہ میں ایک قابل ذکر ملاقات آرٹوروشمٹ (Artoro Schmidt) کی تھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader