Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

ریاض کا سفر

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

کامن ویلتھ کے باشندوں کے لئے باہمی سفر میں پیشگی ویزا لینا ضروری نہیں۔ ان کا ویزا (انٹری سرٹیفکٹ) مقام پر پہنچ کر ہوائی اڈہ پر بن جاتا ہے۔ ہوائی جہاز سے باہر آنے کے بعد سب سے پہلے میں متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچا۔ وہاں ایک انگریز نوجوان تھا۔ اس نے میرا پاسپورٹ اور لندن کے میزبان کی طرف سے میرے نام دعوت نامہ دیکھا۔ اس کے بعد پوچھا کیا انگریزی میں بول سکتے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کچھ مختصر سوال کئے اور چند منٹ میں ضروری اندراجات کر کے پاسپورٹ اور کاغذات میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا ”شکریہ“ اس کے بعد دوسرا کام یہ تھا کہ اپنا دہ سامان گیج سے حاصل کروں جس کو میں نے برٹش ائیرویز کے حوالے کیا تھا۔ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر یہ قاعدہ ہے کہ سامان ہوائی جہاز سے اتار کر ایک پٹی (Conveyor Belt) پر رکھ دیا جاتا ہے جو گھوم گھوم کر لوگوں کے سامنے آتی رہتی ہے۔ مسافر کھڑے رہتے ہیں، اور اپنا اپنا سامان پہچان کر اس سے اتار لیتے ہیں۔ یہاں سیکٹروں کی تعداد میں سامان ہوتا ہے۔ ہوائی اڈہ کا کوئی آدمی وہاں نگرانی کے لئے موجود نہیں ہوتا۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا سامان لے کر روانہ ہوجائے۔ ہر آدمی صرف اپنا سامان اتاراتا ہے اور اس کو ایک خاص طرح کی گاڑی پر رکھ کر باہر آجاتا ہے۔ میں نے بھی اپنا سامان لے لیا اور باہر نکل آیا۔ اس دیانت داری کا راز بے نیازی ہے۔ یہ تمام مسافر خوش حال ہوتے ہیں ۔ ان کو کسی دوسرے کا بکس یا کسی کا بیگ چرانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ویساہی یا اس سے اچھا ان کے پاس پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی اخلاقی خرابیاں غربت اور جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور غربت اور جہالت کو دور کر کے انھیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ جدید طرز کی عمارتوں والے شہر کو دیکھ کر کوئی شخص لندن اترے تو وہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے اس کا فوری احساس یہ ہوگا کہ وہ ایک ایسے شہر میں چل رہا ہے جو جدید تمدنی معیار سے پیچھے ہے۔ یہاں کے مکانات عام طور پر قدیم انداز کے ہوتے ہیں۔ جدید عمارتوں کی دنیا میں لندن قدیم عمارتوں کا شہر ہے۔ لندن کی سڑکوں کے دونوں طرف قدیم طرز کے مکانات کا منظر عام ہے۔ مگر خود سڑکوں کا حال یہ ہے کہ ان پر ہر وقت انتہائی جدید طرز کی کاروں کا سیلاب بہتا رہتا ہے۔ آدمی یہاں سفر کرتے ہوئے ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ دو طرفہ کھڑے ہوئے قدیم ماحول میں ایک جدید سفر کر رہا ہے یا دوسرے درجہ کے ایک شہر میں اول درجہ کی سواری پر رواں دواں ہے۔ دوسری طرف عرب شہروں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی مادرن عمارتوں اور شاندار کاروں کے ساتھ یہ منظر پیش کرتے ہیں جیسے کہ انھوں نے ”جدید“ کو لینے کے شوق میں اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page