Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

صبح کے ناشتہ کے وقت جہاز کے اندر ایئر انڈیا کا مینو کارڈ دیا گیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا: Indian hospitality across five continents (ہندوستانی میزبانی پانچ براعظموں کے درمیان) مطلب یہ ہے کہ ایر انڈیا کی سروس پانچوں براعظموں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا مسافر دنیا کے جس براعظم میں بھی جائے وہ ایر انڈیا کو اپنے لیے بہترین میزبان کے طور پر پائے گا۔ میں ناشتے سے فارغ ہو کر ٹائلٹ جانے کے لیے اٹھا تو جہاز کے عملہ کے ایک شخص نے مسکراتے ہوئے کہا : You enjoyed your breakfast, Sir. (جناب، کیا آپ اپنے ناشتے سے محفوظ ہوئے)۔ ظاہر ہے کہ یہ سب تجارتی اخلاق کی باتیں ہیں۔ تاجر اپنی تجارت کے لیے کتنے خوبصورت الفاظ پاللیتا ہے۔ دین کی دعوت کو بھی قرآن میں ایک تجارت کہا گیا ہے۔ مگر دین کے داعی اپنے مدعو کے لیے موجودہ زمانہ میں خوبصورت الفاظ نہ پاسکے۔ ان کے پاس اپنے مدعو کو صرف متوحش کرنے والے الفاظ ہیں نہ کہ اس کو مانوس کرنے والے الفاظ۔ دہلی سے روم کا فاصلہ ۴۰۰۷ کلومیٹر ہے۔ یہ دوری آٹھ گھنٹے میں طے ہوئی ۔ ہم ۴ دسمبر کی صبح کو روم کے ہوائی اڈہ پر اترے ۔ روم سے اگلا جہاز شام کو تھا۔ چنانچہ یہاں ایئر انڈیا کی طرف سے ہمارے لیے ایک دن کے قیام کا انتظام تھا۔ یہاں میں ہوٹل (Holiday Inn) کے کمرہ نمبر ۲۲۰ میں ٹھہرا۔ یہاں میں نے تین نمازیں پڑھیں۔ فجر، ظہر، عصر۔ روم اٹلی کا دار السلطنت ہے۔ یہ دنیا کے انتہائی قدیم شہروں میں سے ہے۔ اس کا آغاز غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح میں ہوا۔ اس وقت یہاں صرف چند معمولی مکانات تھے۔ اس کے بعد رومیوں کی ترقی کے ساتھ روم کی ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ ایک عظیم شہر بن گیا۔ رومی اس کو ابدی شہر (Eternal City) کہتے تھے۔ روم کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ اس نے یورپ میں ایک ہزار سال تک تہذیب کے مقدر پر حکومت کی ہے: For well over a millenium Rome controlled the destiny of all civilization known to European man, then fell into dissolution and disrepair. (15/1066) روم کا ایئر پورٹ کافی بڑا ہے۔ اس کو دیکھ کر روم کے بارے میں شاندار تصور ذہن میں آتا ہے۔ مگر حقیقت میں روم اتنا شاندار نہیں۔ جب شہر میں داخل ہوں تو اس کی آبادیاں دوسرے درجہ کے شہر کا منظر پیش کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روم اب ایک زوال یافتہ شہر ہے جہاں زندگی کے ہر جز پر تنزل کی چھاپ نظر آتی ہے۔ مشہور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page