Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

رومی سیاست داں مارکس سسرو (Marcus Tillius Cicero) نے دو ہزار سال پہلے کہا بت کہ بجٹ متوازن ہونا چاہیے ، ورنہ حکومت دیوالیہ ہو جائے گی۔ مگر آج روم کی حکومت پر ۳۰ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض ہے۔ اس قرض پر اس کو روزانہ تقریباً ایک کروڑ روپیہ کا سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم، واٹر سپلائی، اسپتال، ڈاک، ہر چیز کا نظام غیر معیاری ہے۔ ہم کو نیویارک سے دہلی کے لیے ٹیلی فون منٹوں میں مل گیا تھا۔ یہاں سے ہم نے دہلی ٹیلی فون کرنا چاہا مگر کافی کوشش کے بعد بھی سلسلہ نہیں ملا۔ روم میں بجلی کے بارے میں ایک میگزین میں یہ لطیفہ پڑھا کہ روم میں بجلی نہ اے سی ہے اور نہ ڈی سی ۔ وہ ایم سی ہے۔ یعنی خراب کرنٹ : It is neither AC nor DC, but MC Malfunctioning Current اسی طرح ایک اور لطیفہ پڑھنے میں آیا کہ روم کے ایک شخص کے نام ۷۹ ٹیلی فون کا بل آ گیا جب کہ درخواست کے باوجود ابھی تک اس کے یہاں ٹیلی فون بھی نہیں لگا تھا ۔ روم میں جرائم بھی کافی ہوتے ہیں۔ ایک فرانسیسی سیاح ایک مقام پر اپنی موٹر کار روک کر اترا۔ پولیس نے اس کو ہدایت کی کہ وہ کار کے دروازے اچھی طرح بند کر دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ مگر جب وہ سیر کر کے واپس آیا تو اس کی کار کے سات سوٹ کیس چوری ہو چکے تھے۔ اس کے بعد وہ قریب کے پولیس دفتر میں رپورٹ درج کرانے گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کی کار بھی غائب تھی ۔ ایک سیاح نے بتایا کہ روم میں اس کا ایک مسئلہ پیدا ہوا تو ایک مقامی باشندے نے اس سے کہا : Don't get upset. Rome is Rome. The key word, my friend, is PAZIMENZA (patience) پریشان نہ ہو میرے دوست، کلیدی لفظ صرف ایک ہے، اور وہ ہے برداشت۔ روم کی ایک خاص چیز ویٹیکن سٹی ہے۔ یعنی مسیحی پیشوا کا شہر۔ ویٹیکن سٹی رقبہ کے اعتبار سے ایک مربع میل سے بھی کم ہے۔ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی ریاست ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بے حد چھوٹا ہونے کے باوجود وہ خود اٹلی سے بھی زیادہ ذی اثر ہے ۔ وہ رومن کیتھولک چرچ کا عالمی مرکز ہے ۔ ویٹیکن اٹلی کے اندر ہونے کے باوجود مکمل طور پر خود مختار ہے ۔ مگر یہ خود مختاری اس کو اس قیمت پر ملی ہے کہ اس نے اپنے اختیارات کو غیر سیاسی دائرہ میں محدود کر لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page