Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

ویٹیکن سٹی کا اپنا ٹیلی فون سسٹم ہے ۔ اپنا پوسٹ آفس ہے ۔ اپنا طاقت ور ریڈیو اسٹیشن ہے ۔ اپنی پولیس ہے۔ اپنا بینگلنگ نظام ہے ۔ اپنی کرنسی ہے ۔ اس کے باشندے ایک ہزار سے بھی کم ہیں مگر ان کا اپنا علحدہ پاسپورٹ ہوتا ہے یہ زیادہ تر چرچ کے عہدیدار اور کارکن مرد اور عورتیں ہیں ۔ ویٹیکن میں بہت سے چرچ ہیں ۔ ان میں سے قدیم ترین چرچ چوتھی صدی عیسوی کا بنا ہوا ہے ۔ یہاں تقریبا ہر چیز باہر سے آتی ہے ۔ مثلاً کھانا ، پانی ، بجلی ، گیس وغیرہ ۔ یہاں کوئی انکم ٹیکس نہیں ہے ۔ ویٹیکن سٹی کی آزاد اور خود مختار حیثیت موسولینی کے زمانے میں ۱۹۲۹ میں منظور ہوئی۔ یہاں کی لائبریری اور یہاں کے میوزیم میں بہت سے قیمتی نوادرات موجود ہیں جن کو دیکھنے کے لیے لوگ برابر آتے رہتے ہیں ۔ ویٹیکن کا اپنا طاقت ور اطالوی اخبار ہے جس کا نام ہے L'Osserva-tore Romano یہاں کا پریس اتنا بڑا ہے کہ وہ ہر زبان میں کتاب چاپ سکتا ہے ۔ جار جیا کی قدیم زبان سے لے کر ہندوستان کی تامل تک ہر زبان میں یہاں کتاب چھاپی جا سکتی ہے ۔ سب سے پہلے سینٹ پال روم میں آئے اور یہیں ان کی وفات ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ سینٹ پیٹر بھی روم آئے تھے ۔ قرون وسطی میں پوپ عملاً پورے یورپ کا مقتدر اعلیٰ تھا ۔ وہ کسی بادشاہ کو معزول کرنے کا حق رکھتا تھا۔ مگر بعد کو بادشاہوں نے بغاو ت کی یہاں تک کہ چرچ اور اسٹیٹ کی علحدگی عمل میں آئی ۔ بادشاہ سیاست کا حکمراں قرار پایا اور پوپ مذہب کا ۔ یورپ میں پوپ کا سیاسی اقتدار باقاعدہ طور پر ۱۸۷۰ء میں ختم ہوا ۔ ویٹیکن میں ایک اسلامی شعبہ بھی قائم ہے ۔ اس شعبہ کے ذمہ دار کا نام و پتہ یہ ہے : Rev. Fr. Thomas Michel Secretariats pro Non-Christians 00120 Cittadel Vaticano Roma; Italy ویٹیکن پورے معنوں میں ایک " اسٹیٹ " ہے ، صرف یہ کہ اس کے پاس باقاعدہ فوج نہیں ۔ اس وقت دنیا بھر میں ۱۰۸ ملکوں سے اس کے سفارتی تعلقات ہیں ۔ پچھلے پوپ عام طور پر ویٹیکن سے باہر نہیں نکلتے تھے مگر موجودہ پوپ بہت متحرک قسم کے آدمی ہیں ۔ انھوں نے کثرت سے بیرونی سفر کیے ہیں اور دوسری غیر روایتی سرگرمیاں دکھائی ہیں ۔ انھیں میں سے ایک ہے : ویٹیکن کے دو حریفوں اینگلیکن چرچ اور اسلام سے تعلقات قائم کرنا ۔ اگرچہ ایک مبصر کے الفاظ میں پوپ کو پہلے معاملے میں کامیابی ہوئی اور دوسرے معاملے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page