Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

ناکامی : He initiated moves for a new relationship with Islam with- out success, and with the Anglican Church with success. ہندوستان میں عیسائیوں کی تعداد ۲ فی صد ہے ۔ مگر دنیا بھر میں کیتھولک عیسائی تقریباً ایک ارب کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام کیتھولک چرچ براہِ راست طور پر ویٹیکن کے ماتحت ہیں ۔ ان کے تمام معاملات ویٹیکن کی ماتحتی میں انجام پاتے ہیں ۔ چرچوں میں پادریوں کا تقرر ، ان کا معاودنہ ، ان کی ترقی یا عزل سب براہِ راست ویٹیکن کرتا ہے ۔ صرف ہندوستان میں گیارہ ہزار (Catholic priests) پادری ہیں اور وہ سب کے سب مکمل طور پر ایک بیرونی ادارہ (ویٹیکن) کے احکام کے تحت عمل کرتے ہیں ۔ ویٹیکن اپنی ساری وسعت کے باوجود ایک انتہائی منظم عالمی ادارہ کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اگر مسلمانوں کا ایسا کوئی ادارہ ہو تو غالباً اس کی ہر شاخ میں یہ واقعہ پیش آئے گا کہ وہاں جس شخص کو مقامی انچارج بنایا جائے گا وہ پہلی فرصت میں یہ منصوبہ بنائے گا کہ قانونی یا غیر قانونی تدبیر کر کے اپنی زیرِ انتظام شاخ کو ایک الگ ادارہ بنالے اور آزادانہ طور پر خود اس کے اوپر قابض ہو جائے ۔ مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ ماتحتی کو قبول نہیں کرتے ۔ اور بلاشبہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔ دہلی اور روم میں وقت کا فرق ساڑھے چار گھنٹہ ہے ۔ دہلی سے ہمارا جہاز دو بجے رات کو روانہ ہوا تھا ۔ جب وہ روم پہنچا تو مقامی وقت کے لحاظ سے صبح ساڑھے چھ بجے کا وقت تھا ، جب کہ اس وقت دہلی کی گھڑی میں دن کے گیارہ بج رہے تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دہلی کی گھڑی کے لحاظ سے ہم ساڑھے چار گھنٹہ پہلے روم پہونچ گئے ۔ ــــ ہندوستان سے مغرب کی طرف سفر کریں تو آپ وقت کو حاصل کرتے ہیں اور اگر ہندوستان سے مشرق کی طرف سفر کریں تو آپ وقت کو کھو دیتے ہیں ۔ ۵ دسمبر کو میں دکار (سینگال) پہونچا ۔ روم سے دکار کا سفر ایرا فریق (Air Afrique) کے ذریعہ ہوا ۔ یہاں تقریباً ۲۰ گھنٹے قیام رہا ۔ ہوائی سفر کا قاعدہ ہے کہ اگر آپ کو کسی مقام پر جہاز بدلنے کے لیے ٹھہرنا ہے اور آگے کی فلائٹ میں آپ کی سیٹ کنفرم ہے تو ہوائی کمپنی اپنے خرچ پر آپ کو ہوٹل میں ٹھہرائے گی ۔ اور ہوائی اڈہ سے ہوٹل آنے جانے کے لیے سواری بھی اپنی طرف سے مہیا کرے گی ۔ اس کے لیے ہوائی اڈہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page