امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
پر مستقل ڈیسک ہوتے ہیں۔ روم کے ہوائی اڈہ پر یہ ڈیسک پیسجر سروس کے نام سے ہے اور دکار میں ایر افتق اور ایر فرانس کے نام سے۔ آپ یہاں اپنا ٹکٹ دکھا کر کاغذ بنو لیجئے۔ اس کے بعد ہوٹل کے لوگ بطور خود آپ کا انتظام کریں گے۔ اگر وقت کافی ہو تو سفر کے آغاز سے پہلے ہی بذریعہ ٹیلكس ہوٹل کا ریزرویشن ہو جاتا ہے۔ دکار میں میرا قیام ہوٹل میریڈین (Meridien) کے کمرہ نمبر ۴۵۶۹ میں تھا۔ یہ ہوٹل وسیع پہاڑی ماحول میں قائم ہے۔ ہوا نہایت خوش گوار ہے۔ یہاں نماز پڑھتے ہوئے دعا نکلی : خدایا میں نے تیرے آگے ایشیا میں سجدہ کیا تھا۔ پھر میں نے یورپ میں تیرے آگے سجدہ کیا اور اب افریقہ میں تیرے آگے سجدہ کر رہا ہوں۔ تو میری نمازوں کو قبول فرما اور مجھے بخش دے ۔ دکار سینگال کی راجدھانی ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان فرانیسی ہے۔ لوگ یا تو فرانیسی زبان بولتے ہیں یا مقامی زبان۔ تاہم عربی اور انگریزی بولنے والے بھی بقدر ضرورت مل جاتے ہیں۔ یہاں مورطانیہ کے ایک صاحب ملے ۔ وہ وہاں ریڈیو اور ٹیلی وزن کے محکمہ میں کام کرتے ہیں ۔ وہ عربی اچھی جانتے تھے اور میری کتاب (الاسلام يتجدی) سے واقف تھے ۔ دکار (Dakar) افریقہ کے چند اہم شہروں میں سے ایک ہے۔ سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے اس کو ترقی کے کافی مواقع ملے ہیں ۔ ۱۹۰۲ء سے ۱۹۵۹ تک وہ فرانس کے قبضہ میں رہا ۔ ۱۶۷۷ میں پہلی بار فرانیسی یہاں سمندر کے راستہ سے داخل ہوئے تھے ۔ سینگال میں تقریباً ۹۰ فی صد مسلمان ہیں۔ دکار کی آبادی ایک ملین کے لگ بھگ ہے ۔ دکار کا ہوٹل میریڈین عین سمندر کے کنارے ہے اور نہایت وسیع رقبہ میں رزورٹ کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ اس کے ایک طرف دور تک پھیلے ہوئے سر سبز و شاداب مناظر ہیں اور دوسری طرف سمندر کی لہریں موجیں مارتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ گویا ایک طرف جمال خداوندی کے مناظر ہیں اور دوسری طرف جلال خداوندی کے ۔ مگر لوگوں کے چہرے بتاتے ہیں کہ وہ یہاں صرف تفریح کے لیے آتے ہیں۔ انھوں نے یہاں نہ خدا کے جمال کو دیکھا اور نہ اس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔ ڈچ نے ۱۶۴۱ء میں یہاں کا ایک چھوٹا جزیرہ خرید کر حاصل کیا تھا۔ اس وقت سے یہاں مغربی تدخل کا آغاز ہوا ۔ فرانسیسیوں نے اس جزیرے پر ۱۶۷۷ میں قبضہ کر لیا ۔ اس کے بعد یہاں برطانی آئے۔ بالآخر فرانسیسیوں نے اس کا بڑا حصہ ۱۸۵۰ میں فتح کیا ۔ ۱۸۸۵ میں یہاں پہلی ریلوے قائم کی گئی ۔ دکار کا صدارتی محل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader