امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کے چند خوبصورت ترین صدارتی محلوں میں سے ہے ۔ دکار کا یوف ایرپورٹ (Yof Airport) امریکہ کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ یہاں مونگ پھلی کافی پیدا ہوتی ہے ۔ دوسری جنگِ عظیم تک یہاں کی مونگ پھلی تیل تیار کرنے کے لیے فرانس جاتی تھی ۔ اب خود ملک میں اس کے کارخانے کھل گیے ہیں ۔ دوسری بہت سی صنعتیں بھی یہاں پائی جاتی ہیں ۔ نہر سوئز بند ہونے کے زمانہ میں دکار کی بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیاں کافی بڑھ گئی تھیں ۔ دکار اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کا مرکز ہے ۔ دکار میں جب ہم مقررہ وقت پر ہوٹل سے ایرپورٹ پہونچے تو معلوم ہوا کہ کسی تکنیکی سبب (Technical Reason) سے جہاز مزید لیٹ ہوگیا ہے ۔ دوبارہ ہم ایک اور ہوٹل میں لے جائے گیے جس کا نام ہوٹل ترنگا (Hotel Sofitel Teranga) تھا ۔ ہوٹل کے نام میں ” ترنگا “ کا لفظ دیکھ کر ہمیں ہندوستانی لفظ ترنگا یاد آیا ۔ جس کے معنی ہیں تین رنگ والا ۔ مگر مقامی زبان میں اس لفظ کا مطلب ہے تکریم ۔ ہوٹل ترنگا کا مطلب ہے عزت و تکریم والا ہوٹل ۔ دوبارہ جب میں دکار کے ایرپورٹ پر پہنچا تو یہاں گامبیا کے ایک صاحب ( احمد ڈرامے ) سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے پہلے بھی ملاقات ہو چکی ہے ۔ وہ بہت خوش ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ آج جب کہ میں یہاں دکار کے ایرپورٹ پر تھا۔ دکار کا ایک آدمی آیا ۔ وہ آپ سے ملنا چاہتا تھا ، اس کو کسی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ آپ آج یہاں سے گزر رہے ہیں۔ اس نے آپ کی عربی کتابیں اور مجلہ الامت ( قطر ) میں آپ کے بارہ میں مضمون پڑھا تھا۔ میں نے جب بتایا کہ میں آپ کو جانتا ہوں اور آپ سے ملا ہوں تو وہ بہت حیرت کے ساتھ مجھ سے آپ کے بارے میں سوالات کرتا رہا ۔ وہ دیر تک ایرپورٹ پر رہا ۔ پھر مایوس ہو کر چلا گیا ۔ واضح ہو کہ ہوائی جہاز لیٹ ہو جانے کی وجہ سے اس وقت میں ہوٹل ترنگا میں تھا ۔ یہاں میرا قیام کمرہ نمبر ۲۰۳ میں تھا ۔ دکار کے ہوائی اڈہ پر دو امریکی مسلمانوں ( سلیم بن غائم ، حسن عجرم ) سے ملاقات ہوئی ۔ یہ دونوں اصلاً لبنانی ہیں ۔ مگر ان کے آبا ر امریکہ میں رہنے لگے ۔ یہ لوگ اب صرف انگریزی زبان جانتے ہیں ۔ اپنی آبائی زبان عربی سے برائے نام واقف ہیں ۔ ان کو میں نے الرسالہ ( انگریزی ) دیا۔ وہ اس کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے ۔ وہ اس کے مضامین پڑھتے جاتے تھے اور " گڈ ، گڈ " کہتے جاتے تھے ۔ الرسالہ ( انگریزی ) کی زبان کی انھوں نے خاص طور پر بہت تعریف کی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader