ریاض کا سفر
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
”قدامت“ کو سراسر خیر باد کہہ دیا ہے۔ جب کہ لندن کا تمدنی ماحول اپنی خاموش زبان میں یہ کہتا ہو نظر آتا ہے کہ اس نے جدید کو ضرور لیا ہے۔ مگر اس نے جدید کو اس طرح لیا ہے کہ اس کی قدامت اس سے چھوٹے نہ لائے۔ ۴ اگست کو مندوبین کا قافلہ لندن کو دیکھنے کے لئے پورے شہر میں گھمایا گیا، ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ یہاں کی کئی چیزیں اس سے کم ”عظیم“ ہیں جتنا کہ پڑھ کر یا سن کر ہم نے سمجھ لیا تھا، مشہور بگ بین ٹاور بظاہر دیکھنے میں صرف چھوٹا بین ٹاور معلوم ہوا۔ کنگھم پیلیس نئی دہلی کے رائشترپتی بھون کے مقابلہ میں معمولی نظر آیا۔ اسی طرح یہاں کے پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت نئی دہلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے مقابلہ میں غیر اہم دکھائی دی۔ البتہ ہائیڈ پارک کا فی بڑا تھا، اس سے بھی بہت بڑا جو تصوراتی طور پر ہم نے سمجھ رکھا تھا۔ انگریز اپنے ماضی کی روایات کا بے حد احترام کرتے ہیں اور ان کو باقی رکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ان کا یہ مزاج ان کی قومی زندگی کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ قوموں کے اندر کردار پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے درمیان کوئی مشترکہ عقیدہ ہو جس کی غیر مشروط وفاداراری ہر ایک کا جزو ایمان بنی ہوئی ہو۔ زندہ اسلامی معاشرہ میں خدا کا عقیدہ یہی فعل انجام دیتا ہے۔ انگریز اپنے ماضی کی روایات کو اسی مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ماضی خود اپنے تسلسل کے نتیجہ میں ان کے درمیان موجود رہے۔ اگر وہ کوئی نیا اجتماعی عقیدہ بنائیں اور ماضی کی روایات کو توڑ کر نئے عقیدہ کو اس کی جگہ رائج کرنا چاہیں تو قدیم کا تقدس تو ضرور ٹوٹ جائے گا مگر جدید کا تقدس قائم ہونا سخت مشتبہ رہے گا۔ اس کا زندہ نمونہ ہندوستان اور پاکستان کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں یہ اندیشہ اپنی بدترین صورت میں واقعہ بن چکا ہے۔ کسی مفکر نے صحیح کہا ہے کہ زندگی میں ایک چھوٹی سی روایت بھی لمبی تاریخ کے بعد قائم ہوتی ہے: It requires a lot of history to make a little tradition. لندن میں پانچ لاکھ سکھ ہیں۔ ان کے تقریباً دوسو گور دوارے ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد بھی لندن میں تقریباً پانچ لاکھ اور پورے برطانیہ میں تقریباً ۲۵ لاکھ ہے۔ ان میں سے ۵ ہزار نو مسلم ہیں۔ لندن میں تقریباً سو مسجدی ہیں اور پورے برطانیہ میں تقریباً چھ سو۔ یہ سب لوگ یہاں کی اصطلاح میں ایشیائی کہے جاتے ہیں۔ یہ بظاہر مختلف مذہب کے لوگ ہیں۔ مگر ان کے مسائل مشترک ہیں: اپنے تشخص (identity) کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ ان کے درمیان کمیونٹی سنٹر اور مذہبی سنٹر کی مقبولیت کی ایک خاص نفسیاتی وجہ یہی ہے۔ باہر سے جو مسلمان یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ان میں جو حساس ہیں ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی اخلاقی اور مذہبی تربیت کا مسئلہ ہے۔ یہ بچے یا تو مقامی بچوں کی طرح بالکل آزاد ہو رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader