Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ۔ چنانچہ امریکی وزیر خارجہ جارج بش نے ایتھوپیا کی امداد کے لیے کام کرنے والی بعض انجمنوں کے ذمہ داروں کو بلایا جس میں مسلمان بھی شامل تھے۔ جارج بش نے ایتھوپیا کے قحط زدگان کی امداد کے لیے امریکی حکومت کی طرف سے ایک بلین ڈالر کا چیک اس طرح لکھا کہ اس کی پوری کارروائی ٹیلی وزن پر نشر کی جا رہی تھی اور پریس کے۷۲ نمائندے وہاں موجود تھے تاکہ امریکہ کی اس فیاضی کو کل صبح کے اخبارات کی سرخی بنا سکیں ۔ بہت سے کام آدمی کرتا ہے جو بظاہر خیر اور اصلاح کے کام معلوم ہوتے ہیں مگر یہ سارا کام محض اپنی قیادت کو باقی رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ قیادت کی مصلحت کے سوا اس سے اور کچھ مقصود نہیں ہوتا۔ ایک عرب عالم نے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر درد مندانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا کام ہمیشہ چوٹی سے شروع کرتے ہیں (مع الاسف، المسلمون يبدون من القمة) یہی وجہ ہے کہ ان کا کوئی کام تکمیل کے مرحلہ تک نہیں پہنچتا۔ کام کی تکمیل کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نیچے سے شروع کیا جائے نہ کہ اوپر سے ۔ افسوس کہ یہ کمزوری آج دنیا بھر کے مسلمانوں میں ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔ کانفرنس کے بعد واپسی پیرس اور لندن کے راستہ سے ہوئی۔ ہما کو سے روانہ ہو کر ۱۰ دسمبر ۱۹۸۵ کو میں پیرس پہنچا۔ پیرس سے آگے کے لیے میرا رزرویشن کنفرم نہیں تھا۔ کھڑکی پر متعین خاتون کو میری سیٹ کے لیے آدھ گھنٹہ سے زیادہ کام کرنا پڑا۔ ٹیلی فون، ٹیلكس اور کمپیوٹر میں وہ بہت دیر تک مشغول رہی۔ مزید یہ کہ پیرس سے دہلی براہ راست فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے راستہ بدلنا پڑا۔ اس کی وجہ سے اس کو بار بار حساب کتاب کرنا پڑا۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ وہ نہ اکتائی اور نہ اس کے اندر جھنجلاہٹ پیدا ہوئی ۔ بالآخر اس نے برٹش ایرویز کی لندن سے دہلی کی فلائٹ پر میرے لیے جگہ حاصل کر لی۔ اس سارے کام میں کافی دیر ہو چکی تھی ۔ چنانچہ میں بھاگ کر برٹش ایرویز کے جہاز تک پہنچا۔ جب میں جہاز کے اندر داخل ہوا تو اچانک یاد آیا کہ میں اپنا کتابوں کا بنڈل مذکورہ کھڑکی پر چھوڑ آیا ہوں ۔ میں نے جہاز کے عملے سے کہا۔ انھوں نے کہا کہ آپ اپنی سیٹ پر بیٹھیے ۔ ہم ابھی آپ کا پیکٹ منگاتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے جہاز کے اندر سے ٹیلی فون پر مذکورہ خاتون سے کہا۔ اس نے فوراً امیر ایکیٹ بھیجا ۔ پیکٹ مجھ کو جہاز کے اندر عین اس وقت مل گیا جب کہ جہاز روانہ ہونے والا تھا ۔ اس پورے واقعہ کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ سب کچھ اتنے معیار اور اتنی مستعدی کے ساتھ ہوا کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا کو جس چیز کی ضرورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page