امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے وہ " بہتر نظام " نہیں ہے بلکہ روح کی غذا ہے جس سے آج کا انسان محروم ہے ۔ اسلام کو روح کی غذا کی حیثیت سے پیش کرنا ہی آج دعوتِ اسلامی کا اصل کام ہے ۔ پیرس سے لندن تک ایر فرانس کے ذریعہ سفر ہوا۔ لندن سے دہلی کے لیے برٹش ایرویز کے ذریعہ روانگی ہوئی جہاز کے اندر برٹش ایرویز کا ماہنامہ تھا۔ اس کا نام انہوں نے اونچی زندگی (Highlife) رکھا ہے۔ اسی طرح کے صفحہ نمبر ۱۳۸ پر سیکو گھڑی کا اشتہار تھا۔ اس میں گھڑی کی تصویر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : Man invented time. Seiko perfected it. انسان نے وقت ایجاد کیا۔ سیکو نے اس کو معیاری حیثیت دی) آدمی کو جب کسی کام سے دل چسپی ہو تو وہ اسی طرح اپنی بات کہنے کے لیے خوبصورت الفاظ پا لیتا ہے۔ بڑے الفاظ بولنا ہمیشہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ آدمی جس معاملہ میں بول رہا تھا اس معاملے سے اس کو کوئی قلبی لگاؤ نہ تھا۔ برٹش ایرویز کے اندر جب مسافروں کو لاؤڈ اسپیکر پر ہدایت دی گئیں تو سب سے پہلے عرب خاتون کی زبان سے عربی میں اعلان کیا گیا ۔ اسی طرح مختلف اعلانات عربی زبان میں لکھے ہوئے تھے ۔ مثلاً ایلا یٹ میں حسبِ ذیل اعلان اس طرح لکھا ہوا تھا کہ انگریزی کی لائن نیچے تھی اور عربی کی لائن اوپر : الرجاء عدم رمي المناشف المستعملة في المرحاض جہاز کے اناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے عملہ میں انگریزی ، جرمن، فرنچ، اسپینی، عربی، اردو اور پنجابی جاننے والے لوگ موجود ہیں ۔ آپ کسی بھی ضرورت کے لیے ان سے اپنی زبان میں کہہ سکتے ہیں ۔ یہ اعلان سن کر میں نے سوچا کہ برٹش ایرویز کو بین اقوامی سطح پر اپنی تجارت چلانا ہے اس لیے اس نے اپنے عملہ میں ہر زبان کے آدمیوں کا انتظام کیا ہے ۔ مگر عالمی اسلامی دعوت کا جذبہ اتنا مؤثر نہ ہو سکا کہ ہمارے کسی اسلامی ادارہ کے اندر ہر زبان کے جاننے والے فراہم کیے جائیں تاکہ ہر زبان کے جاننے والے ان سے اسلام کا تعارف حاصل کر سکیں۔ شاید دینوی محرک انسان کے لیے آخردی محرک سے زیادہ طاقت ور ہے ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام صرف ایک قوم کے لیے آیا تھا تو تمام مسلمان اس سے لڑ جائیں گے ۔ مگر عملاً تمام مسلمان اسلام کو ایک قوم کی چیز بنائے ہوئے ہیں ۔ ۱۱ دسمبر ۱۹۸۵ء کی صبح کو میں دہلی واپس پہونچا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader