Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نیچے حسب معمول یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : یہ دسمبر ۱۹۸۶ کا پرچہ تھا جو آرٹ پیپر کے ڈیڑھ سو صفحات پر نہایت عمدہ چھپا ہوا تھا۔ مگر وہ مفت دیا جا رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دراصل میگزین نہیں بلکہ ایک قسم کا اشتہار نامہ ہے۔ پورا پرچہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ تاہم انھوں نے پرچہ پر ” ہمارا تحفہ “ کا لفظ نہیں لکھا، بلکہ ” آپ کی اپنی کاپی “ لکھا۔ یہ وہ تجارتی زبان ہے جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی ہے۔ جدید تجارتی اصول یہ ہے کہ ” میں “ کو حذف کر کے ” آپ “ کا استعمال کیا جائے ہر آدمی کو طبعاً اپنی ذات سے دل چسپی ہوتی ہے، دوسرے سے کسی کو دلچسپی نہیں ہوتی۔ تجارت کی کامیابی اسی نفسیات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ایک تاجر نے کہا کہ تجارت میں سب سے کم اہم لفظ ” میں “ ہے اور سب سے زیادہ اہم لفظ ” آپ “۔ دنیا کا نقشہ اپنے سامنے رکھیے تو دہلی سے یورپ کی طرف جاتے ہوئے جنیوا پہلے نظر آئے گا اور لندن اس کے بعد۔ گویا دہلی سے لندن جا کر جنیوا آنے کے لیے ہمیں دوبارہ پیچھے کی طرف سفر کرنا پڑا۔ اس کی وجہ ” کنکٹنگ فلائٹ “ کا مسئلہ ہے۔ دہلی سے جنیوا کے لیے براہ راست پرواز نہیں ہے۔ اگر آپ قریبی راستہ سے دہلی سے جنیوا کے لیے روانہ ہوں تو راستے میں جہاں آپ جہاز بدلیں گے وہاں سے فوری طور پر آپ کو دوسرا جہاز نہیں ملے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اگلے جہاز کے انتظار میں آپ کو درمیانی ہوائی اڈہ پر لمبی مدت تک پڑے رہنا ہوگا۔ مگر لندن دنیا کا سب سے بڑا ہوائی مرکز ہے۔ یہاں سے ہر جگہ کے لیے کم سے کم وقت میں جہاز مل جاتے ہیں۔ دہلی سے سیدھے راستہ کے ذریعہ جنیوا جانے میں ہمیں زیادہ وقت لگتا۔ جب کہ لندن کے راستے سے جانے میں نسبتاً کم وقت لگا۔ لینن نے کہا تھا کہ ” ہندوستان کا وہ راستہ قریب ہے جو لندن ہو کر جاتا ہے “۔ اسی طرح ہمارے لیے جنیوا کا وہ راستہ زیادہ قریب تھا جو لندن ہو کر گیا ______ کبھی دور کا راستہ قریب ہوتا ہے، اور قریب کا راستہ دور ہو جاتا ہے۔ لندن میں شہر کے اندر جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ البتہ ہوائی جہاز میں اڑتے ہوئے پورے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page