امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
لندن کا منظر صاف دکھائی دیا۔ لندن میں ۱۹۶۶ء میں زبردست آگ لگی تھی۔ اس میں لندن کا دو تہائی حصہ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ ۷۰ ر جگہیں بالکل کھنڈر ہو گئے۔ اس کے بعد بعض ماہرینِ تعمیر نے یہ نقشہ بنایا کہ لندن کی نئی تعمیر میں اس کی سڑکیں زیادہ چوڑی کر دی جائیں۔ مگر مالکان زمین کو معاوضہ دینے کے لیے اس وقت ضروری رقم حکومت کے پاس موجود نہ تھی۔ اس لیے اس منصوبہ پر صرف جزئی عمل ہو سکا۔ تاہم گرجا گھروں کی نئی تعمیر پر اہل لندن نے زبردست طاقت خرچ کی۔ سینٹ پال کے عظیم گرجا گھر کی تعمیر ثانی میں پورے ۳۵ سال لگ گئے۔ وہ ۱۷۱۱ء میں دوبارہ بن کر مکمل ہوا۔ تاہم یہ تین سو سال پہلے کی بات ہے۔ آج کے لندن میں گرجا (چرچ) کے مقابلہ میں دوسری چیزیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ۵۰۰ ، اسکہ آباد ہیں اور پورے ملک میں ان کے تقریباً ۱۵۰ گوردوارے ہیں۔ ہندو مذہب کو ماننے والوں کی تعداد ایک لاکھ ۵۰ ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ برطانیہ میں انھوں نے بھی تقریباً ۵۰ مندر بنائے ہیں۔ ہندو مراکز کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مذہبی رسوم کی ادائگی کے علاوہ سماجی اور تہذیبی خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۵ لاکھ ہے جس میں زیادہ تعداد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باشندوں کی ہے۔ لندن ایئرپورٹ کی ایک ملازم خاتون مجھے "مسلمان" صورت دیکھ کر مجھ سے مخاطب ہوئی ۔ اس نے اپنا نام ماریہ بیگ بتایا۔ اس نے کہا کہ وہ اصلاً پرتگالی ہے۔ اس نے اسلام قبول کر کے مٹر بیگ سے نکاح کر لیا ہے۔ مٹر بیگ پاکستانی ہیں۔ اور لندن میں بحیثیتِ انجینئر کام کرتے ہیں۔ برطانیہ میں تقریباً ایک ہزار مساجد ہیں۔ لندن میں بہت بڑا اسلامک سینٹر اور مسجد ہے۔ اس کی شاندار تصویر (الدعوة (رياض) ۸ دسمبر ۱۹۸۶ء کے ٹائٹل کے آخری صفحہ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ۹ دسمبر کی دوپہر کو ہم جنیوا اتر گئے۔ یہاں ایئرپورٹ پر ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ توقع کے مطابق وہاں کانفرنس کے منتظمین کو ڈبلیو سی آر ایل (WCRL) کا کارڈ لے کر موجود رہنا چاہیے تھا تاکہ میں فوراً انھیں پالوں اور وہ ہوٹل تک میری رہنمائی کر سکیں۔ مگر جب میں ایئرپورٹ سے باہر آیا تو وہاں اس قسم کی کوئی علامت مجھے نظر نہ آئی۔ کچھ دیر کے لیے میں عجیب الجھن میں پڑ گیا۔ ایک صاحب سے ذکر کیا تو انھوں نے ایئرپورٹ سے ہوٹل انٹرکانٹینٹل کو ٹیلی فون کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader