امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوٹل والوں نے بتایا کہ یہاں سے کئی آدمی رسیو کرنے کے لیے جا چکے ہیں۔ آپ دوبارہ انھیں ایئر پورٹ پر تلاش کریں۔ اس کے بعد مزید چل کر دیکھا تو وہ وہاں کارڈ لیے ہوئے میرے انتظار میں موجود تھے۔ قصہ یہ تھا کہ وہ لوگ دوسرے گیٹ پر تھے اور میں ایک اور گیٹ سے باہر آیا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک مقام پر اپنے مطلوب کو نہ پا کر مایوس ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ تلاش کرے تو وہ پائے گا کہ اس کا مطلوب دوسرے مقام پر خود اس کے انتظار میں کھڑا ہوا ہے۔ جنیوا میں میرا قیام انٹرکانٹیننٹل ہوٹل میں تھا۔ میرے کمرہ کا نمبر ۵۲۱ تھا۔ ہوٹل میں جو پل یٹی لٹریچر رکھا ہوا تھا، اس میں کافی لٹریچر عربی میں بھی نظر آیا۔ "سوی سرا" نام کی ایک مکمل گائیڈ بک عربی زبان میں موجود تھی ۔ اس کے علاوہ مختلف کاغذات پر عربی زبان میں اندراجات نظر آئے ۔ مثلاً ایک دو ورقہ میں ہوٹل کا تعارف کرایا گیا تھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا: اکثر من ۸۰ فندق فخم حول العالم (ساری دنیا میں ہمارے ۸۰ سے زیادہ بڑے ہوٹل ہیں) کمرہ کے باتھ روم میں پلاسٹک کی ایک ہتھیلی میں نہانے کی ٹوپی (Shower cap) رکھی ہوئی تھی ۔ اس کے اوپر مختلف زبانوں میں اندراجات تھے ، اسی کے ساتھ اس پر عربی میں غطاء للرأس بھی لکھا ہوا تھا۔ کمرہ میں لمبے شیشے کی کھڑکی پر عربی میں لکھا ہوا تھا : يرجى قفل النافذة عند تشغيل تكييف الهواء مع الشكر براہ کرم ایئر کنڈیشنر چلانے کے وقت کھڑکی کو بند رکھیں۔ جنیوا میں عرب لوگ کافی آتے ہیں۔ یہ عربیت اسی کی بنا پر ہے ۔ ہوٹل کے کمرہ میں ایک بہت عمدہ چھپا ہوا جریدہ تھا ۔ جس میں تصویروں کے ذریعہ دکھایا گیا تھا کہ اس ہوٹل کو کس قسم کے لوگوں کی میزبانی کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ان شخصیتوں میں وزیر اعظم ہندوستان راجیو گاندھی، صدر انڈونیشیا جنرل سوہارتو، سلطان بن عبد العزيز (سعودی عرب) اور دوسری بہت سی ممتاز شخصیتوں کے نام شامل تھے ۔ یہ ہوٹل مختلف طریقوں سے اپنے اعلیٰ میزبانوں کو متاثر کرتا ہے۔ مثلاً اس کے ایک تصویر نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ جرمنی کا ایک ممتاز شخص (Udo Lattek) اپنی پارٹی کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader