Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ہوٹل میں ٹہرا۔ اتفاق سے انہی تاریخوں میں اس آدمی کی بڑھ ڈٹے تھی۔ ہوٹل والوں نے عین اس تاریخ کو اچانک بڑھ ڈٹے کا کیک اس کو پیش کرکے اسے حیرت میں ڈال دیا : The Management surprised him with a birthday cake. تاجر اپنی تجارت میں اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ وہ ایک طرفہ اخلاقیات کے ذریعہ اپنے گاہک کے دل کو جیت لے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دعوتِ حق کا بھی ہے۔ حق کے داعی کو بھی ایک طرفہ عمل کے ذریعہ مدعو کے دل کو جیتنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر کسی کے اندر وہ گہرا تاثر پیدا نہیں ہو سکتا جو ایک آدمی کو اپنے راستہ کی تبدیلی پر مجبور کر دے۔ "سوئزر لینڈ" کے نام سے غالباً سب سے پہلے میں اس وقت واقف ہوا جب کہ ابھی میری کم عمری کا زمانہ تھا اور میرے گھر والوں نے مجھے ایک آٹومیٹک گھڑی پہننے کے لیے دی۔ اس پر سوئس گھڑی (Swiss Watch) لکھا ہوا تھا۔ اس سے میرے ذہن پر یہ تصور قائم ہو اکو سوئزرلینڈ گھڑیوں کا ایک ملک ہے۔ مگر بعد کی معلومات نے صرف جزئی طور پر اس کی تصدیق کی۔ بعد کو معلوم ہو اکو سوئزرلینڈ اسی درجہ میں گھڑیوں کا ملک ہے جس درجہ میں عرب اونٹوں یا کھجوروں کا ملک۔ میری یہ گھڑی کہی دیئے بغیر اپنے آپ چلتی تھی۔ اپنی کم عمری کی بنا پر اس وقت میں نے یہ سمجھا کہ وہ شاید نبض کی حرکت سے چلتی ہے۔ یہ غلط نہی اس وقت رفع ہوئی جب کہ کچھ عرصہ بعد گھڑی بند ہو گئی۔ اس وقت میں نے اس کو ایک گھڑی ساز کو صفائی کیلئے دیا۔ اس نے کھول کر دکھایا کہ گھڑی کے اندر ایک خاص طرح کا پہیہ نما پرزہ ہے جو ایک تہائی کے بقدر کٹا ہوا ہے۔ یہ پہیہ ہاتھ کی حرکت سے برابر گھومتا رہتا ہے اور گھڑی کو کوک دیتا رہتا ہے۔ اس پرزہ کو روٹر (Rotor) کہا جاتا ہے۔ یہ آٹومیٹک گھڑی کی قدیم تکنیک تھی۔ اب نئے قسم کی آٹومیٹک گھڑیاں بازار میں ملنے لگی ہیں۔ کم عمری کے اس واقعہ نے مجھے ہمیشہ کے لیے یہ سبق دیدیا کہ کسی چیز کے بارہ میں محض قیاس سے کوئی رائے قائم نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح رائے وہ ہے جو مکمل معلومات کی بنیاد پر قائم کی جائے۔ سوئزرلینڈ کے ایک شہر لی لاکل (Le Locle) کے چوراہے پر ایک نوجوان کا اسٹیچو لگا ہوا ہے۔ یہ ڈینیل جین ریچرڈ (Daniel Jean-Richard) کا اسٹیچو ہے۔ وہ ۲۵۰ ۱۶ میں پیدا ہوا ۱۷۲۱ میں اس کی وفات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار گھوڑے کا ایک انگریز تاجر ادھر سے گزرا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page