امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
اس نے مذکورہ نوجوان کے والد کو اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی مرمت کے لیے دی ۔ نوجوان نے منت سماجت کر کے یہ گھڑی اس سے مانگ لی ۔ اس چھوٹی سی مشین سے اس کو اتنی دل چسپی ہوئی کہ وہ ایسی ہی ایک نئی مشین بنانے میں لگ گیا ۔ ۱۸ مہینے کی لگا تار محنت کے بعد اس نے ویسی ہی ایک نئی گھڑی بنالی۔ اس طرح ۱۷۰۵ء میں باقاعدہ طور پر سوئزر لینڈ میں گھڑی کی صنعت قائم ہوئی ۔ یعنی عین اس وقت جب کہ ہندوستان میں اورنگ زیب عالمگیر کی حکومت (۱۷۰۷ - ۱۶۵۸) کا آخری زمانہ تھا ۔ مذکورہ نوجوان اگرچہ " ترقی یافتہ سوئزر لینڈ " کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہا ، مگر ایک شخص کی قربانی اور ہوش مندی نے پوری قوم کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ۔ اب اسی معاملہ میں اس کے برعکس مثال لیجئے ۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب تلاشِ ہند (Discovery of India) میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے مغل امرا ر بہ کثرت گھڑیاں استعمال کرتے تھے ۔ پرتگالی ، اور بعد میں انگریز ہندوستان میں یہ گھڑیاں لاتے تھے ۔ گھڑیوں کا استعمال مغل امرا ر کے تکلفات میں شامل تھا ۔ تاہم اس وقت کے ہندوستان میں نہ کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کمانی کی گھڑیاں (Spring clocks) جو یورپی تاجر ہندوستان میں لاکر فروخت کرتے ہیں ، وہ کیسے بنتی ہیں نہ ایسی گھڑیاں کبھی یہاں بنائی گئیں ۔ مغل دور کے ہندوستان میں میکانکی رجحان (Mechanical bent) کی یہ کمی نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ (صفحہ ۲۶۱) سوئزر لینڈ ارباب سرمایہ کی پناہ گاہ ہے ۔ سوئزر لینڈ کے بینکوں میں کھاتہ کھولنے کے لیے وہ پابندیاں نہیں ہیں جو دوسرے ملکوں میں ہوتی ہیں ۔ یہاں ہر آدمی کھاتہ کھول سکتا ہے ، خواہ وہ سوئزر لینڈ کا شہری ہو یا نہ ہو ۔ مزید یہ کہ یہاں خفیہ کھاتے کھولنے کے نہایت وسیع امکانات ہیں۔ یہاں کے بینکوں میں ایسے کھاتے کھولنے کی سہولت ہے جن سے مطلوبہ رقم صرف خفیہ نمبر یا لفظ بتا کر نکالی جاسکتی ہے ۔ ان خفیہ کھاتوں کا علم بینک کے اسٹاف کے دو افراد کو ہوتا ہے ۔ دو افراد اس لیے تاکہ اگر ایک شخص موجود نہ ہو تو دوسرا شخص فوراً اس کی تعمیل کر سکے ۔ اس نظام نے دنیا بھر کے اربابِ دولت ( بادشاہوں ، سیاسی لیڈروں ، صنعت کاروں وغیرہ) کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ سوئزر لینڈ کے بینکوں میں بھاری رقم کے خفیہ کھاتے کھول سکیں ۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ سوئزر لینڈ کے بینکوں میں جمع شدہ ہندوستانی باشندوں کی رقوم تقریباً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader