امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
اتحاد نہیں ہو سکتا، جب کہ وہ خود صلح کی اور اتحاد کی پیش کش کر رہا ہو۔ کیسا عجیب ہے وہ اسلام جو موجودہ زمانے کے مجاہدینِ اسلام کے حصہ میں آیا ہے۔ ۱۹۸۲ء میں سوئٹزر لینڈ کے ۲۷، ۵ بینکوں میں جو رقم جمع تھی، وہ ہندوستانی سکہ میں 305,000 کروڑ روپے ہوتی ہے (ریڈرز ڈائجسٹ، فروری ۱۹۸۲ء) سوئٹزر لینڈ کا ایک طبقہ بینکوں میں خفیہ کھاتے رکھنے کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اس سے ظالم حکمراں اور غلط ذرائع سے دولت حاصل کرنے والے دوسرے لوگ اپنی دولت کو چھپا کر دوبارہ اس کو یا حرمت طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ایک سوشل ڈیموکریٹ نے بینک راز داری کو ختم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ کا لا دھن ہمارے بینکوں کے علی بابا کے کھوہ میں غائب ہو جاتا ہے اور پھر وہ جائز دولت بن کر باہر آتا ہے تاکہ اس کو حسبِ منشا استعمال کیا جا سکے : Black money disappears into the Ali Baba caves of our banks and emerges respectably white and ready for investment. سوئٹزر لینڈ یورپ کا ایک نسبتاً چھوٹا ملک ہے۔ اس کو ساحلِ سمندر بھی حاصل نہیں۔ مگر سوئٹزر لینڈ کو اس کی کیوں نے عمل کا مزید حوصلہ دیا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، خام مواد سے محرومی نے سوئٹزر لینڈ کو مایوس نہیں کیا۔ اس نے اپنی محنت سے اپنے یہاں نہایت اعلیٰ اور معیاری صنعتی بنیاد تعمیر کر لی۔ حتیٰ کہ وہ یورپ میں فی کس سب سے زیادہ آمدنی کا ملک بن گیا : Undismayed by a lack of raw material, the Swiss have constructed a high-quality, high-technology industrial base for Europe's highest per capita income. سوئٹزر لینڈ میں چار زبانیں (جرمن، فرینچ، اطالین، رومائش) رائج ہیں۔ یہاں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد نصف ملین ہے (کل تعداد کا ۱۶ فی صد) سوئٹزر لینڈ کی کل آبادی تقریباً ۶۳ لاکھ ۵۰ ہزار ہے۔ صد فی صد لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ جنیوا زیادہ بڑا شہر نہیں۔ آپ اگر چاہیں تو پیدل چل کر اس کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں بھی وہ بہت زیادہ عظیم نظر نہیں آتا۔ تاہم اس کی تاریخ نے اس کو عظیم بنا دیا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اکثر بین الاقوامی اہمیت کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader