Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 303

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعات جنیوا میں پیش آئے ۔ جنیوا ، سرینگر کی مانند پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع ہموار میدان میں آباد ہے ۔ وہ اپنی بعض خصوصیات کی وجہ سے یورپ کا ایک ممتاز شہر سمجھا جاتا ہے ۔ اس کا رقبہ ۱۱۰ مربع میل (۲۸۰ کلومیٹر) ہے ۔ اس کی آبادی تقریباً ۳۲۰ ہزار ہے ۔ جنیوا کی معاشی اور تہذیبی اہمیت اپنے رقبہ سے بہت زیادہ ہے۔ سولہویں صدی تک جنیوا انٹرل کا شکار رہا۔ اس کے بعد ۱۵۳۰ء سے اٹلی، جرمنی، فرانس وغیرہ ملکوں کے نکلے ہوئے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ۔ اس سے جنیوا کو نیاخون (New blood) ملا اور اس کی ترقیاں شروع ہوئیں ۔ ان لوگوں نے غیر معمولی محنت سے یہاں گھڑی سازی ، پرنٹنگ اور دوسرے صنعتی میدانوں میں ملک کو آگے بڑھایا ۔ ہر قوم کی ترقی کے لیے " نیاخون " درکار ہوتا ہے ، خواہ یہ نیا خون اندر سے حاصل ہو یا باہر سے۔ عیسائیت میں ریفارمیشن کی تحریک نے جنیوا میں اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اس شہر کو پروٹسٹنٹ روم (Protestant Rome) کہا جانے لگا۔ جنیوا کی مقامی آبادی میں پروٹسٹنٹ لوگ کسی قدر زیادہ ہیں ۔ مگر مجموعی آبادی میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک تقریباً نصف نصف ہیں ۔ جنیوا میں میں نے بعض پروٹسٹنٹ چرچ اندر سے دیکھے ۔ وہ کیتھولک چرچ کے برعکس ، بالکل سادہ تھے ۔ جیسے مسلمانوں کی مسجدیں سادہ ہوتی ہیں ۔ جنیوا کو ایک بین اقوامی شہر (International city) کہا جاتا ہے۔ یہاں ڈیڑھ سو سے زیادہ بین اقوامی اداروں کے صدر دفتر ہیں۔ اور اکثر بین اقوامی اداروں کی شاخیں موجود ہیں ۔ جنیوا کو بین اقوامی حیثیت دینے میں اس کا بھی دخل ہے کہ یہاں تقریباً ۵۰ فی صد بیرونی افراد آباد ہیں ۔ اس واقعہ نے جنیوا کو ایک قسم کی عالمی حیثیت دیدی ہے۔ فرانس کے سیاست داں ٹالی بینڈ (Talleyrand) نے کہا تھا کہ دنیا میں پانچ براعظم ہیں اور پھر جنیوا ہے : There are five continents, and then there is Geneva. جنیوا میں دور جدید کے بعض انتہائی بڑے مفکر پیدا ہوئے ۔ مثلاً روسو اور والٹیر ۔ اس بنا پر جنیوا کو یہ حیثیت بھی حاصل ہوئی کہ وہ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔ دور اول میں سلمان جب اسپین کے راستہ سے یورپ میں داخل ہوئے تو وہ پیش قدمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page