امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے ہوئے سوئزر لینڈ تک پہونچ گئے۔ اسپین اور سسلی اور جنوبی اٹلی اور جنوبی فرانس میں انھوں نے باقاعدہ حکومتیں قائم کر لیں۔ تاہم سوئزرلینڈ میں اس قسم کی کوئی حکومت قائم نہ ہو سکی۔ سوئزرلینڈ میں عرب مسلمانوں کے داخلہ کے بارے میں قدیم عربی کتابوں میں بہت کم معلومات ملتی ہیں۔ اس سلسلہ میں زیادہ معلومات ان کتابوں میں ہیں جو عیسائی حضرات نے جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں لکھی ہیں۔ امیر شکیب ارسلان ( ۱۹۲۶ - ۱۸۶۹ء ) جرمن اور فرانسیسی زبان جانتے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا۔ نیز انھوں نے ان یورپی علاقوں کے سفر کیے۔ اس کے بعد انھوں نے اس موضوع پر تین سو صفحات کی ایک کتاب (۱۳۵۲ ھ) عربی زبان میں لکھی ہے جس کا نام یہ ہے : تاریخ غزوات العرب فى فرنسا و سويسرا و ايطاليا وجزائر البحر المتوسط امیر شکیب ارسلان کی اس کتاب میں دوسری معلومات کے علاوہ ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انھوں نے اس میں ایک جرمن کتاب کا خلاصہ شامل کر دیا ہے جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی تھی۔ اس کتاب کا جرمن نام یہ ہے : Der einfall der Sarazenenen in die Schweiz, Von dr Ferdinand Keller سوئس انسائیکلوپیڈیا (Dictionnaire historique et biographique de la Suisse) میں سراسین (Saracen) کے باب کے تحت بھی عربوں کے سوئزرلینڈ میں داخلہ کی بابت کافی معلومات درج ہیں۔ سوئزرلینڈ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۳۰۰۰۰ ہے۔ امیر شکیب ارسلان نے اپنی تحقیق کے دوران خود سوئزرلینڈ کا سفر کیا تھا۔ اس سلسلہ میں وہ سوئزرلینڈ کے شہر سیون (Sion) گئے۔ وہاں سے دریافت کرتے ہوئے وہ ایک گاؤں میں پہونچے جو پہاڑوں کے درمیان واقع ہے ۔ یہاں ایک بوڑھے واقف کار شخص نے انھیں بتایا کہ ہم سنتے آئے ہیں کہ اس گاؤں کے تمام باشندے یاکم از کم ان میں سے کچھ عرب نسل سے ہیں ( ان اهالي هذه القرية او بعضهم على الاقل هم من اصل عربی ، صفحہ ۷۹۲ ) اس نے مزید بتایا کہ اس طرح کی اور بستیاں بھی سوئزرلینڈ میں پائی جاتی ہیں۔ سوئزرلینڈ کے بعض مقامات کے نام اب بھی عربی انداز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader