Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

پر ہیں۔ مثلاً علی العین (Allalin) اور الماجل (Almagell) وغیرہ۔ مغربی مورخین نے اپنی کتابوں میں عربوں کے سوئٹزرلینڈ میں داخلہ کی یہ تصویر پیش کی ہے کہ وہ یہاں لوٹ مار کرنے آتے تھے۔ چنانچہ خود امیر شکیب ارسلان نے اپنی مذکورہ کتاب میں اس طرح کے عنوانات قائم کیے ہیں ـــــــــ نزول العرب فى بروفانس وغاراتهم من هنالك على سافواى وبيبيمونت، سويسرة، غارات العرب على سويسرة فى اواسط القرن العاشر۔ پروفیسر ہٹی نے اپنی کتاب (تاریخ عرب) میں سوئٹزرلینڈ میں قدیم مسلمانوں کے داخلہ کے بارہ میں ایک پیراگراف لکھا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ اغلبہ اپنی پیش قدمی کے دوران صرف اٹلی کے ساحل تک نہیں رکے۔ ۸۶۹ ء میں انھوں نے مالٹا کو فتح کر لیا۔ اٹلی اور اسپین سے ان کے حملے دسویں صدی میں الپائن کے دروں کے ذریعہ وسطی یورپ تک پہنچے تھے۔ الپ کے علاقہ میں متعدد عمارتیں اور دیواریں ہیں جن کو سیاحوں کی گائیڈ بک قدیم مسلمانوں کے حملوں سے منسوب کرتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں کچھ جگہوں کے نام عرب اصل سے تعلق رکھنے والے نظر آتے ہیں، مثلاً گابی اور الگابی جو بظاہر انجابی (محصل) کی بدلی ہوئی صورت ہے : مسلمان اغلبہ اور فاطمیہ کے دور میں سوئٹزر لینڈ میں داخل ہوئے۔ مگر یہاں ان کی کبھی حکومت قائم نہ ہوسکی۔ اگرچہ بعض مسلم مصنفین نے یہاں قیام حکومت کا دعویٰ کیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے اپنی کتاب تعارف اسلام (An Introduction to Islam) میں لکھا ہے کہ عباسی دور میں تیونس کے گورنر کو دعوت دی گئی کہ وہ سسلی کی خانہ جنگی میں مداخلت کرے۔ اس کے بعد تیونس کے مسلم گورنر نے جزیرہ سسلی پر قبضہ کر لیا۔ مزید وہ اٹلی کے بڑے حصہ پر بھی قابض ہوگیا۔ حتیٰ کہ مسلمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page