امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اس کو اپنا سیاسی مرکز بنایا ۔ موجودہ زمانہ میں بین الاقوامی تجارتی نمائشوں کی وجہ سے فرینکفرٹ نے کافی شہرت حاصل کی ہے ۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ۱۹۴۴ میں اس پر زبردست بمباری ہوئی ۔ اس کے نتیجہ میں فرینکفرٹ بالکل تباہ ہوگیا ۔ مگر اس بربادی میں ترقی کا نیا امکان نکل آیا ۔ اس نے جرمنوں کو موقع دیا کہ وہ اپنے قدیم شہر کو دوبارہ جدید طرز پر آباد کریں ۔ موجودہ منظم اور پر رونق شہر جنگ کے بعد اس کے کھنڈروں سے برآمد ہوا ہے ۔ مشہور جرمن شاعر گوئٹے (Goethe) فرینکفرٹ میں ہی ۲۸ اگست ۱۷۴۹ ء کو پیدا ہوا تھا ۔ اس کا پیدائشی مکان تاریخی یادگار کے طور پر محفوظ رکھا گیا تھا ۔ مگر وہ بھی دوسری عالمی جنگ میں جل کر تباہ ہوگیا ۔ جرمنوں نے اس کو دوبارہ اس کے سابقہ نمونہ پر بنا دیا ہے ۔ فرینکفرٹ میں جرمنی کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے ۔ لندن اور پیرس کے بعد فرینکفرٹ کو یورپ میں تیسرے سب سے بڑے ایئرپورٹ کی حیثیت حاصل ہے ۔ سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ مسافر یہاں کے ایئرپورٹ سے گزرتے ہیں ۔ فرینکفرٹ میں نوے ہزار سے زیادہ بیرونی ملکوں سے آئے ہوئے لوگ آباد ہیں ۔ ان میں تقریباً ۱۶ فی صد ترک ہیں ۔ فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر ۶۶۶ کے ذریعہ سفر ہوا ۔ یہ آٹھ گھنٹہ کی طویل پرواز تھی ، تاہم سفر با آسانی طے ہو گیا ۔ ہندوستان کے اندر انڈین ایئر لائنز سے سفر کرتے ہوئے کئی بار میرے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ایئر پورٹ پر پہونچ کر معلوم ہوا کہ فلائٹ روک دی گئی ہے ۔ کیوں کہ آگے جس ہوائی اڈہ پر اس کو اترنا ہے وہاں کہر کی وجہ سے رویت (visibility) کم ہے ۔ مغربی ملکوں میں اگر یہ چیز رکاوٹ بنے تو وہاں روزانہ ہی فلائٹ روکی جاتی رہیں ۔ کیوں کہ وہاں تو اکثر فضا میں کہر چھایا ہوا ہوتا ہے ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں رڈار (Radar) اور کمپیوٹر کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کر لیا گیا ہے ۔ جنیوا اور فرینکفرٹ دونوں جگہ ایسا ہوا کہ ہمارا جہاز وہاں پہونچا تو فضا کے اوپر گہرا کہر چھایا ہوا تھا ۔ مگر جہاز کو لینڈ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی ۔ اس مسئلہ کا حل اس نظام کے ذریعہ نکال لیا گیا ہے ۔ جس کو آج کل فی الفور نظام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader