امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے ۔ اس نظام میں جہاز کو صحیح مقام پر اتارنے کا کام انسانی (On the line system) آنکھ کے بجائے مشینی آنکھ کرتی ہے ۔ ہوائی اڈہ پر لگا ہوا راڈار لہریں پھینکتا ہے ۔ یہ لہریں ہوائی جہاز سے ٹکرا کر لوٹتی ہیں تو راڈار سے متصل کمپیوٹر ان کا تجزیہ کر کے جان لیتا ہے کہ ہوائی جہاز کا رخ ، اس کی بلندی وغیرہ کیا ہے ۔ اس تجزیہ کے مطابق وہ وائرلیس پر جہاز کے مشینی نظام کو رہنمائی دیتا ہے کہ وہ اپنے رخ اور بلندی میں کیا تبدیلی کرے کہ وہ صحیح مقام پر صحیح رخ سے اتر سکے ۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کا ہر جز ہر ایک سیکنڈ کے دس لاکھوں حصہ میں انجام پا تا رہتا ہے ، اسی لیے اس کو مائیکرو سیکنڈ (Micro second) کہا جاتا ہے ۔ ایک الیکٹرانک انجینئر نے کہا : آٹومیشن کا بیسک کانسیپٹ بے خطا نظام (Error-free system) کو وجود میں لانا ہے ۔ ایک انسان لازماً غلطی کرتا ہے ۔ لیکن مشین کی صورت میں غلطی کا امکان بہت زیادہ کم ہو جاتا ہے : A man is bound to make error, but by machine, this probability gets very much reduced. فرینکفرٹ میں ایک ہندوستانی مسٹر ورما سے ملاقات ہوئی۔ وہ بھوپال کے رہنے والے ہیں اور شکاگو (امریکہ) میں تجارت کرتے ہیں ۔ ان سے میں نے پوچھا کہ ہندوستان میں اور امریکہ میں کیا فرق ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں کوئی کام کرنا بے حد آسان ہے اور ہندوستان میں کام کرنا بے حد مشکل ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ہندوستان میں ایک انڈسٹری لگائی ہے ۔ مگر اس کو لگانے کے لیے دفتری لڑائی میں مجھے دس سال بیت گیے ۔ جب کہ ان کے بیان کے مطابق ان کے وزیروں تک سے تعلقات تھے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں عام آدمی کو بھی وہی مواقع حاصل ہیں جو خواص کو ۔ جب کہ ہندوستان میں رشوت اور بیوروکریسی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ میں ہندوستانی لوگ بہت بڑے بڑے کام کر رہے ہیں ۔ یہ سب ہندوستان واپس آسکتے ہیں اور اپنے دیش کو ترقی دے سکتے ہیں ۔ مگر جو شخص واپس آتا ہے وہ اتنی مشکلوں میں پھنس جاتا ہے کہ اس کے سارے حوصلے پست ہو جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں انھوں نے کئی قصے سنائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader