Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 325

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوچا کہ مغرب اور ہندوستان کے درمیان یہ فرق ہے کہ مغرب کی مثال زندہ جسم کی ہے اور ہندوستان کی مثال مردہ جسم کی ۔ ہندوستان گویا جگساپزل کے ٹکڑوں کے ذریعہ بننے والا جسم ہے۔ زندہ جسم ایک مربوط کل ہوتا ہے ۔ اس کا ہر حصہ اس طرح عمل کرتا ہے کہ وہ دوسرے کے حصہ کا کام بھی کر سکے ۔ اس کے برعکس ہندوستان کے افراد جگساپزل کے الگ الگ ٹکڑوں کی مانند ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو صرف اپنی خبر ہے ، کسی کو بھی نہ تو دوسرے کے وجود کی خبر ہے اور نہ وہ اس کے سلسلہ میں اپنی کوئی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے مغرب کے عام انسان کی زندگی کو عافیت کی زندگی بنا دیا ہے اور ہندوستان کے عام انسان کی زندگی کو بے عافیت کی زندگی۔ اس سفر میں مجھے مغرب کے تین بڑے مراکز میں جانے کا اتفاق ہوا۔ لندن (انگلینڈ) جنیوا (سوئزرلینڈ) اور فرینکفرٹ (جرمنی) سفر کے خاتمہ پر جنیوا سے میں ۱۰ دسمبر ۱۹۸۶ کو صبح سات بجے روانہ ہوا ۔ واپسی کے سفر میں مجموعی طور پر تقریباً ۱۵ گھنٹے لگے ۔ اس لحاظ سے مجھے ۱۰ بجے رات تک دہلی پہونچ جانا چاہیے تھا ۔ مگر میں دہلی پہونچا تو یہاں کی گھڑیوں میں رات کے ۱۲ بج رہے تھے ۔ یہ اس لیے ہوا کہ ہندوستان اور سوئزرلینڈ کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page