Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 332

By Maulana Wahiduddin Khan

فضا کو اللہ تعالیٰ نے مخصوص قوانین کا پابند بنایا ہے ۔ اگر یہ قوانین نہ ہوں یا وہ انسان کے ساتھ موافقت نہ کریں تو انسان خشکی میں بھی سفر نہیں کر سکتا ، کجا کہ وہ سمندروں میں تیرے اور فضاؤں میں اڑے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَ ۔ سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر خدا کی عظمت کا بڑا پر رعب احساس ہوتا ہے ۔ پانی کا اٹھتا ہوا خزانہ ، ساحل سے ٹکراتی ہوئی موجیں ، حد نظر تک پھیلا ہوا آسمان ۔ یہ چیزیں آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں۔ اس پُر عظمت منظر کو دیکھتے ہوئے میری زبان سے نکلا : بنانے والے نے کیسی عجیب دنیا بنائی ، ایک ایسی دنیا جو دہشت ناک حد تک عجیب ہے ۔ ایک وسیع ہال میں باجماعت نماز کا انتظام تھا۔ بعض باتیں ایسی ہیں کہ ایک مانوس ماحول میں بار بار اس کو سنا جائے تو آدمی اس کا عادی ہو جاتا ہے ۔ مگر وہی بات ایک غیر مانوس ماحول میں سننے کو ملے تو وہ آدمی کو غیر معمولی طور پر متاثر کرتی ہے ۔ یہ ہال جس کے ایک طرف سمندر کا منظر تھا اور دوسری طرف نمازیوں کے چہرے ۔ اس ماحول میں ایک شخص نے کھڑے ہو کر عربی لہجہ میں فجر کی اذان دی : اَللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ ، اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ ، اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، اَلصَّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ، اَللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ ، یہ فجر کا اول وقت تھا ۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ ایسے ماحول میں جب یہ پُر شکوہ الفاظ گونجے تو دل کی عجیب کیفیت ہوئی ۔ ایسا معلوم ہوا جیسے مؤذن کی آواز کائنات کی ہم نوا ہو گئی ہے ، جیسے مؤذن عالم گیر سناٹے کو توڑتے ہوئے اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے جس کے اعلان کے لیے سارے زمین و آسمان بے قرار ہو رہے تھے ۔ کانفرنس میں ایک مقرر نے نماز سے متعلق حضرت عمر رض کا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد اس نے نہایت پر جوش انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہوٹل میں ایک ہال کو مسجد کے طور پر مخصوص کیا گیا ہے ۔ وہاں روزانہ اذان ہوتی ہے ، مگر میں دیکھتا ہوں کہ جب اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو بہت کم لوگ ہیں جو مسجد کی طرف دوڑ کر جاتے ہوں ، مگر خود مقرر صاحب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page