افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 362
By Maulana Wahiduddin Khan
فالعقلية اللغوية وحدها لا تكفي۔ اسی طرح کچھ عرب نوجوانوں کے سامنے میں نے حضرت عمرؓ کے ایک قول کی تشریح کی جس سے انھوں نے پوری طرح اتفاق کیا۔ وہ قول یہ ہے: لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر، ولكنه الذی يعرف خير الشرين (عقل مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے، عقلمند وہ ہے جو یہ جاننے کہ دو شریں سے خیر کون سا ہے) میں نے کہا کہ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انتخاب (choice) خیر اور شر کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ ایک شر اور دوسرے شر کے درمیان ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو ایک کم تر شر پر راضی ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ اس کو اختیار کر کے خیر کامل تک پہنچ سکے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر جو انتخاب تھا وہ عمرہ ادا کرنے اور عمرہ ادا نہ کرنے کے درمیان نہیں تھا، بلکہ عمرہ ادا نہ کرنے اور لڑ کر ہلاک ہو جانے کے درمیان تھا۔ آپ نے اس کو اہوں سمجھا کہ وقتی طور پر عمرہ کی ادائیگی پر اصرار نہ کیا جائے تاکہ آئندہ ہمیشہ کے لئے عمرہ اور حج کی ادائیگی کا دروازہ کھل سکے۔ الاخوان المسلمون کے لئے مصر میں اور جماعت اسلامی کے لئے پاکستان میں اسی قسم کے حالات تھے۔ انھیں ابتداً کم تر شر پر راضی ہونا تھا تا کہ آخر کار وہ خیر برتر تک پہنچ سکیں ۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ اگر وہ اس پیغمبرانہ منہج پر کام کرتے تو یقیناً آج مصر اور پاکستان کی تاریخ دوسری ہوتی۔ ایک مرتبہ میں نے اندازہ کرنا چاہا کہ عرب نوجوان اس فکر کو کتنا سمجھے ہیں۔ چنانچہ میں نے عرب نوجوانوں کی ایک جماعت سے سوال کیا: هل منكم من يفسر هذا القول : ا للذى سيجرى على الكافر في الآخرة يجرى على المؤمن فى هذه الدنيا (کیا آپ میں سے کوئی ہے جو میرے اس قول کی تشریح کرے : جو کچھ کافر پر آخرت میں گزرے گا وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے) مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ انھوں نے سوال کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ لیا اور بالکل درست طور پر اس کا جواب دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader