افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 373
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر ٹامس (F.F. Thomas) تھے۔ انھوں نے میکس مولر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ انوکھی بات کہی تھی کہ سنسکرت اس ملک میں اتنی ہی عام ہے جتنا کہ قدیم یورپ میں لاطینی تھی۔ اور سنسکرت کی ایک سادہ صورت (Simple form) کو پورے ملک کی مشترک زبان بنانے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے (ڈسکوری آف انڈیا ، صفحہ ۱۲۰) تریو ندرم جنوبی ساحل پر واقع ہے جہاں بحر عرب کی لہریں آکر ہندوستان کی سرزمین سے ٹکراتی ہیں۔ اس علاقہ کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اسلام عرب تاجروں کے ذریعہ آیا۔ اس طرح یہاں کے لوگ اسلام سے اس خالص تعمیری پہلو کی حیثیت سے آشنا ہوئے جس کو پنڈت جواہر لعل نہرو نے شاندار کلچر (Brilliant culture) سے تعبیر کیا ہے۔ عرب تاجروں کے غیر سیاسی اور تعمیری انداز نے لوگوں کو اسلام کا گرویدہ بنا دیا۔ نہ صرف عوام بلکہ راجے اور مہاراجے بھی اسلام سے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ کالی کٹ کے راجہ زمورن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عرب تاجروں کا سر پرست بن گیا۔ اور اپنی رعایا میں قبول اسلام کی حوصلہ افزائی کرنے لگا ( پر میچنگ آف اسلام ، ۲۶۹) پروفیسر آر نلڈ نے لکھا ہے کہ سولھویں صدی کے آغاز میں موپلا مسلم مالابار کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ تھے۔ اگر پرتگالی اس علاقہ میں نہ پہنچتے تو اس ساحل کے تمام لوگ مسلمان ہو جاتے کیوں کہ وہ کثرت سے اسلام قبول کر رہے تھے اور مسلم تاجروں کا طبقہ ان کے اوپر نہایت گہرا اثر ڈال رہا تھا (۲۶۹) ہندوستان میں "ملک" ایک واحد جغرافی خطہ کا نام ہوتا ہے۔ مگر جب آپ مالدیپ کی فضا میں پہنچ کر نیچے کی طرف نظر ڈالیں تو " ملک " کا تصور بالکل بدلا ہوا ہوگا۔ یہاں "ملک" ایک ایسے مجموعہ کا نام ہے جو منفرق صورت میں سمندر کے اندر دور دور تک بکھرا ہوا ہو۔ مالدیپ ۱۰۸۷ چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ ان کا مجموعی رقبہ ۲۹۸ مربع کلومیٹر ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے سمندر میں تقریبا ساڑھے سات سو کلومیٹر لمبائی اور تقریبا سو اسو کلو میٹر چوڑائی میں پھیلے ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ۲۱۹ جزیرے آباد ہیں جن میں یہاں کے تقریبا پونے دو لاکھ باشندے رہتے ہیں۔ باقی جزیرے زیادہ تر جنگلات کی صورت میں ہیں۔ مالے (Male) نامی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader