Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 374

By Maulana Wahiduddin Khan

جزیرہ یہاں کا دار السلطنت ہے۔ یہ جزیرہ صرف ایک میل چوڑا اور ڈیڑھ میل لمبا ہے۔ مالدیپ کے سابق وزیراعظم مسٹر احمد کی مارچ ۴۱۹۷۴ میں ہندوستان آئے تھے۔ یہاں انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”ان کا ملک چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بنا ہوا ہے، اس بنا پر رسل و رسائل (communication) کی بہت دشواری ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ آزادی (۱۹۶۵) کے بعد مالدیپ نے اس میدان میں خصوصی توجہ دی۔ اب یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو چکا ہے۔ تمام آباد جزائر میں بندرگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ جدید طرز کی کشتیاں جزائر کو مربوط کرنے کے لئے ہر وقت سمندر میں دوڑتی رہتی ہیں۔ وائر لیس کا عمدہ نظام قائم ہے جس کی وجہ سے ایک لمحہ میں ایک جزیرہ اور دوسرے جزیرہ کے درمیان ربط قائم کیا جاسکتا ہے۔ ان چیزوں کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ مالدیپ کے ذمہ دار اگر یہ مہم چلاتے کہ مالدیپ کے ۱۰۸ جزیروں کو ملا کر ایک کر دیا جائے تاکہ دوسرے ملکوں کی طرح ان کا ملک بھی ایک واحد زمینی خطہ بن جائے جس میں اس سرے سے اس سرے تک سڑکیں ہوں اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ریلیں دوڑتی ہوں۔ اگر وہ ایسی مہم چلاتے تو وہ صرف ایک بے فائدہ لفظ بازی ہوتی جس کا موجودہ اسباب کی دنیا میں کوئی حاصل نہیں۔ مگر انھوں نے اس قسم کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ اس کے برعکس انھوں نے صورت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے حسب حال اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۲۵ سال کے اندر ان کا مسئلہ حل ہو گیا۔ جب کہ جزائر کی یکجائی کے لئے ان کی ”مطالباتی مہم ۲۵ ہزار سال میں بھی کسی نتیجہ پر پہنچنے والی نہیں تھی۔ اس دنیا میں کامیابی کی پہلی شرط حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف کے بعد ہی کسی شخص یا قوم کا سفر شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت واقعہ کا اعتراف نہ کریں ، ان کا سفر ہی شروع نہیں ہوگا۔ اور جس سفر کا آغاز نہ ہوا ہو وہ سفر اختتام پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ ۵ دسمبر، ۱۹۸۱ کی سہ پہر کو مالدیپ پہنچے۔ یہاں کا خاص شہر اور دار السلطنت مالے ہے۔ مالے سے کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹا اور لمبا جزیرہ ہے۔ اس جزیرہ پر ہوائی اڈہ بنا ہوا ہے۔ اس جزیرہ کا رقبہ بس اتنا ہی ہے کہ وہ ایک اوسط درجہ کے ہوائی اڈہ کے طور پر استعمال ہوسکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page