Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 380

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی تعلیم کا جائزہ مشکلات جو عالم اسلامی کو درپیش ہیں (المشاكل التي تواجه العالم الاسلامی) دنیا میں مسلم اقلیتوں کی حالت (اوضاع الاقلّيات الاسلامية في العالم) دعوت اسلامی میں مسلم عورت کا حصہ (دور المرأة المسلمة في الدعوة الاسلامية) 7 دسمبر سے 11 دسمبر تک ان موضوعات پر بحث و گفتگو جاری رہی۔ اپنے عام طریقہ کے مطابق میں اس سفر نامہ میں رپورٹ کے انداز کی تفصیلات درج نہیں کروں گا۔ میں صرف ان چند یا دوں کو پیش کروں گا جن میں کوئی سبق ہے اور جن میں عام لوگوں کے لئے غور و فکر کا سامان ملتا ہے۔ کانفرنس کا افتتاح 7 دسمبر ، 1980ء کی صبح کو اسلامک سنٹر کے ہال میں کیا گیا۔ یہ وسیع اور خوبصورت اسلامک سنٹر ابھی حال میں مختلف اسلامی ملکوں کے تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے۔ کارروائی کا آغاز مالدیپ کے ایک قاری کی قرات قرآن سے ہوا۔ قاری جب قرآن کی قرات کر رہا تھا تو اچانک مجھے یاد آیا کہ دنیا کے جس گوشہ میں بھی میں نے کسی شخص کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا ہے ، اس کی زبان اور اس کا لہجہ ہمیشہ ٹھیک وہی ہوتا ہے جو یہاں اس چھوٹے سے جزیرہ میں مجھ کو سنائی دے رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چودہ سو سال پہلے ایک زندہ ٹیپ تیار کیا گیا تھا، یہ ٹیپ آج بھی اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے اور اسی ابتدائی آواز میں ہر جگہ لوگوں کو خدا کا ابدی پیغام سنا رہا ہے۔ مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم کے کلمات سے کانفرنس کی کارروائی شروع ہوئی۔ انھوں نے اپنی عربی تقریر میں خصوصیت کے ساتھ باہمی اتفاق و اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا : لقد نسينا قول الله عزوجل ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم ونسينا قول رسوله الكريم ولا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا ولا تقاطعوا وكونوا عباد الله اخوانا میں نے سوچا کہ مسلمان کس قدر خوش قسمت ہیں کہ خدا اور رسول کے کلام کی صورت میں ان کے پاس ایک ایسا مستند ہدایت نامہ موجود ہے جس کا حوالہ باہمی معاملات میں دیا جاسکتا ہو اور جس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page