افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 381
By Maulana Wahiduddin Khan
آگے تمام لوگوں کی گر دنیں جھک جائیں۔ اس کے باوجود کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کا حال موجودہ زمانہ میں ایسا ہو رہا ہے جیسے کہ ان کے پاس کوئی متفقہ فکری اور اعتقادی بنیاد ہی نہیں ۔ کسی قوم کے افراد میں اگر بے حسی پیدا ہو جائے تو انتہائی قیمتی پیغام بھی اس کے لئے بے اثر ہو جاتا ہے۔ مجھے جہاں کہیں بھی موقع ملا، میں نے دعوت کے پہلو پر زور دیا۔ ایک عرب مقرر نے اپنی تقریر میں کہا کہ كيف ندعوا غير المسلمين الى السلام والمسلمون منهزمون امام اعدائهم (ہم کیسے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف دعوت دے سکتے ہیں جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے سامنے شکستہ اور مغلوب ہو رہے ہیں) میں نے کہا کہ مدت یہ کم ہیں مسلمان اپنے دشمنوں سے مغلوب تھے، اس کے باوجود انھوں نے ان کو دعوت دی اور کامیابی حاصل کی۔ تاتاری حملہ کے بعد مسلمان مغلوب ہو گئے تھے، پھر بھی انھوں نے ان کو دعوت دی اور اسلامی دعوت کے ذریعہ دوبارہ مسلم دنیا میں اسلام کی ایک نئی تاریخ ظہور میں آئی۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر دوسرے پروگرام کو فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ مگر خالص اسلامی دعوت کا پروگرام ان کی سمجھ میں نہیں آتا، اگرچہ اس کے حق میں کتنے ہی زیادہ دلائل پیش کر دئے جائیں ۔ دوسرے پروگراموں کی مسلسل ناکامی کے باوجود اس طریقہ کے بارے میں ان کا یقین ختم نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر ’’مسائل دنیا‘‘ کا غلبہ ہے، ان کے اوپر ’’مائل آخرت‘‘ کا غلبہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اور دنیوی نوعیت کے مسائل فوراً ہر شخص کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں مسلمانوں کو اقوام عالم کے اوپر گواہ بنانا چاہتا ہے اور آخرت کی یہ گواہی وہ اسی وقت دے سکتے ہیں جب کہ اس سے پہلے دنیا میں انھوں نے دعوت الی اللہ کا کام کیا ہو۔ عام طور پر لوگ بڑے بڑے واقعات سے دل چسپی لیتے ہیں۔ اس کے برعکس مجھے ہمیشہ ان چیزوں سے دل چسپی ہوتی ہے جن کو لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مثلاً بین اقوامی اجتماعات میں فوری ترجمہ کا انتظام۔ یہ ایک عام اور معلوم بات ہے۔ مگر جب میں اس کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھ کو اتنا عظیم معلوم ہوتا ہے کہ شدت تاثر سے میرے جسم میں تھرتھری پیدا ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader