افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 389
By Maulana Wahiduddin Khan
مشکل ہو گئی تھی۔ کھانا اور کپڑا جیسا ضروری سامان بھی بہت کم ملتا تھا۔ چنانچہ جاپانیوں میں شدت سے کمانے کا جذبہ پیدا ہوا۔ اب موجودہ جاپانی کے پاس سب کچھ بافرط موجود ہے تو اس کو احساس ہو رہا ہے کہ صرف مادی ساز و سامان کافی نہیں۔ چنانچہ جاپان میں ایسے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اور مادیت سے آگے کسی اور چیز کی تلاش کر رہے ہیں۔ جاپان کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کیا جائے تو وہاں بہت تیزی سے اسلام پھیل سکتا ہے۔ مگر یہ کام صرف جاپانی زبان میں ممکن ہے کیوں کہ جاپان میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو جاپانی کے سوا کوئی اور زبان بخوبی جانتے ہوں۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے، ان کے ساتھ اتنے زیادہ لوگ جمع ہوگئے، جو کبھی کسی پیغمبر کے ساتھ بھی جمع نہیں ہوئے تھے، حتی کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ بھی نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ پیغمبر کی دعوت ہمیشہ داخل رخی ہوتی ہے اور موجودہ زمانہ کے رہنماؤں کی دعوت خارج رخی تھی۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں کے پیروؤں کی تعداد میں اتنا زیادہ فرق پیدا کر دیا۔ اگر آپ ایسی تحریک اٹھائیں جس کی زد آدمی کی اپنی ذات پر پڑتی ہو، جو خود اپنے اندر تبدیلی کا تقاضا کرتی ہو تو آپ کو بہت کم ساتھ دینے والے ملیں گے، کیوں کہ احتساب خویش انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ ایسی تحریک اٹھائیں جس کی زد دوسروں کے اوپر پڑتی ہو، جس میں دوسروں کے خلاف جھنڈا اٹھانے کا موقع ملتا ہو تو آپ کے ساتھ بھیڑ کی بھیڑ جمع ہو جائے گی، کیوں کہ احتساب غیر انسان کی محبوب ترین چیز ہے۔ ڈاکٹر حسن القوتلی ( پیدائش ۱۹۳۱) لبنان سے آتے تھے۔ کھانے کی میز پر ایک باران کا ساتھ ہو گیا۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کے درمیان ایک مسئلہ پر کئی دن تک بحث ہوتی رہی۔ وہ مسئلہ یہ تھا کہ قرآن خدا کا مکمل کلام ہے یا جزئی کلام۔ اس سوال کی بنیاد یہ تھی کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تمام سمندر سیاہی بنا دئے جائیں اور خدا کے کلمات لکھے جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے ، مگر خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے ( الکہف ۱۰۹) گویا خدا کے کلمات غیر محدود ہیں جبکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader