افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 390
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن محدود کتاب ہے۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ ادعو نی استجب لکم (البقرہ ۱۸۶) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا کلام جاری ہے، وہ ختم نہیں ہوا۔ میں نے پوچھا کہ پھر آپ لوگوں نے کس رائے پر اتفاق کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ : ان کلام الله في القرآن هو کلام الله بالمجمل ، أما كلامه بالتفصيل فهو موجود في الكون ( قرآن میں اللہ کا کلام مجمل ہے، اس کا تفصیلی کلام کائنات میں موجود ہے ) اسی نشست میں ان سے لبنان کے حالات پر گفت گو ہوئی تو وہ فوراً لبنانی عیسائیوں کی شکایت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ عیسائی ہم پر مسلسل ظلم کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو ھر قسم کا نقصان پہنچارہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن کے بارہ میں ایک غیر متعلق بحث میں آپ اور آپ کے ساتھیوں نے کئی دن صرف کر دئے۔ مگر عیسائی مسئلہ کا جواب آپ نے قرآن میں تلاش نہیں کیا۔ حالانکہ وہ براہ راست آپ سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر میں نے آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے، یہاں ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر یہاں ہرایک اپنے امکان کے بقدر استقلال میں لگا رہتا ہے۔ لبنان کے عیسائی علم اور ثقافت کے میدان میں مسلمانوں سے آگے بڑھے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کا استغلال کر رہے ہیں۔ اس کا حل شکایت اور فریاد نہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو ترقی کے راستوں میں آگے بڑھایا جائے ۔ اس کے بعد یہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ ۱۰ دسمبر کی شام کو مالدیپ کے صدر مامون عبد القیوم سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانیں روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ وہ مطالعہ کا ذوق رکھتے ہیں اور انھوں نے میری عربی کتابیں متراھرہ میں تعلیم کے زمانہ میں پڑھی ہیں۔ مالدیپ کے وزیروں اور اعلیٰ عہدیداروں میں اکثر لوگ انگریزی کے ساتھ عربی زبان بھی بخوبی جانتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا : " مالدیپ موجودہ زمانہ میں واحد مسلم ملک ہے جہاں مولویوں کی حکومت ہے“۔ میں نے کہا کہ آپ کی بات صرف جزئی طور پر صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا ہر مسلم حکمران خواہ وہ بظاہر بے ریش ہو، اندر سے وہ "مولوی " ہی تھا۔ مگر مسلم قائدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader