افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 391
By Maulana Wahiduddin Khan
کی جھوٹی مفاہمانہ سیاست نے ہر مولوی حکمران کو مسٹر حکمران بنا دیا۔ استاد محمود احمد گفتار (۸۰ سال) دمشق سے آئے تھے۔ وہ وہاں مفید دینی کام کر رہے ہیں۔ دوسرے بہت سے مسلم نوجوانوں کی طرح ان کا انجام بھی یہ ہو سکتا تھا کہ جہاد کے نام پر حکمراں وں سے بے معنی جنگ کریں اور پھر ناکام ہو کر دنیا کو یہ خبر دیں کہ یہ حکمران اسلام اور اسلامی تحریکوں کے دشمن ہیں۔ مگر ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو ایسا باپ ملا جو واقعی معنوں میں حکیم تھا۔ اس نے ان کو صحیح ترین مشورہ دیا۔ اور سعادت مند بیٹے نے اس مشورہ کو قبول کر لیا۔ ڈاکٹر الشیخ احمد كفتارو (المفتى العام للسورية، رئيس المجلس الافتاء الاعلیٰ) نے اپنے لائق بیٹے کو بتایا کہ کوئی حقیقی کام کرنے کے لئے لازمی طور پر حکمت درکار ہوتی ہے۔ حکمت کے بغیر نہ دین کا کوئی کام کیا جا سکتا اور نہ دنیا کا۔ حکمت کیا ہے، حکمت یہ ہے کہ مطلوب کام مطلوب وقت پر اور مطلوب شکل میں کیا جائے (الحكمة : فعل ما ينبغى، فى الوقت الذي ينبغي، وعلى الشكل الذي ينبغي) شیخ کفتارو کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے لازم ہے کہ ہمارا بنیادی کام دعوت کے میدان میں ہو۔ ہم سیاسی لوگوں سے جھگڑا نہ کریں تاکہ دعوت اسلامی کے مواقع ضائع نہ ہوجائیں (يجب ان يكون عملنا الاساسي في ميدان الدعوة ولا نتناحر مع السياسين حتى لا تضيع على الدعوة الاسلامية الفرض) شیخ کفتارو کے صاحبزادہ محمود احمد گفتارو کی زبان سے میں نے یہ باتیں سنیں تو میں نے کہا کہ بلاشبہ یہی حکیمانہ طریقہ ہے اور اسی کا نام اسلام ہے۔ اس کے سوا جو کچھ آج اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے وہ محض بے معنی لیڈری ہے جس کی کوئی قیمت نہ دین کے اعتبار سے ہے اور نہ دنیا کے اعتبار سے۔ ایک صاحب نے اپنی پر جوش تقریر میں کہا کہ غیر مسلم تنظیموں اور غیر مسلم حکومتوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ سب کے سب اسلام کے دشمن ہیں۔ All are enemies of Islam میں نے کہا کہ آپ کا فرمانا ہے کہ سب اسلام دشمن ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ سب اسلام دوست

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader