Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 392

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ آپ کی مشکل یہ ہے کہ آپ معاملہ کو اس کے ظاہری پہلو (Face value) پر دیکھ رہے ہیں۔ اور میں معاملہ کو اس کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ وہی فرق ہے جو خود پیغمبر کے زمانہ میں بھی موجود تھا۔ اس وقت عرب کے بیشتر لوگ پیغمبر کے سخت ترین مخالف بنے ہوئے تھے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب کے سب اسلام کے دشمن ہیں۔ مگر بعد کو لوگوں نے دیکھا کہ حالات بدلے اور انھیں لوگوں نے اسلام کی صف میں شامل ہو کر اسلام کی تاریخ بنائی۔ یہ سب کچھ آج بھی ممکن ہے ، بشرطیکہ ہم پیغمبر اسلام والے طریقہ پر چلنے کے لئے تیار ہوں۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بڑے جوش سے کہا : میں قرآن کو مانتا ہوں مگر میں حدیث کو نہیں مانتا۔ میں نے پوچھا کیوں۔ انھوں نے کہا کہ حدیث میں ایسی ایسی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آئیں ۔ میں نے کہا کوئی مثال دیجئے ۔ انھوں نے مثال میں وہ حدیث پیش کی جس میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے کہا کہ جاؤ لوگوں کو خوش خبری دے دو کہ جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے وہ جنت میں جائے گا۔ حضرت عمر راستہ میں مل گئے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت ابو ہریرہ اس طرح کہہ رہے ہیں تو ان کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ ایسا مت کیجئے ، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کر لیں گے ( اذاً بیتکلوا ) آپ نے حضرت عمر کی رائے سے اتفاق کر لیا۔ میں نے کہا کہ یہ حدیث انتہائی با معنی ہے ۔ اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ باعتبار حقیقت تھی۔ مگر حضرت عمر کو اندیشہ ہوا کہ لوگ اس کو باعتبار الفاظ لے لیں گے اور محض تلفظ کلمہ کو جنت کا زینہ سمجھنے لگیں گے۔ حالانکہ اصل چیز حقیقت کلمہ ہے نہ کہ تلفظ کلمہ۔ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن میں ساتویں پارہ کے شروع میں بیان ہوئی ہے۔ ۱۰ دسمبر کو دن کا کھانا حکومت مالدیپ کی طرف سے جزیرہ بانڈوس (Bandos) پر تھا۔ دو موٹر بوٹ کے ذریعہ کانفرنس کے شرکاء جزیرہ پر پہنچائے گئے۔ یہ سفر دن میں ہوا۔ اس لئے جسمانی سفر کے ساتھ روحانی سفر کی منازل بھی خدا کی توفیق سے طے ہوتی رہیں۔ مالدیپ کی اقتصادیات کا انحصار ، مچھلی کے بعد "ٹورسٹ انڈسٹری " پر ہے۔ اس لئے یہاں کی ہر چیز سیاحت رخ انداز میں بنائی گئی ہے۔ بانڈوس جزیرہ پر بھی سیاحوں کے ذوق کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page